مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 57
57 40 نیک طینت شادی بیاہ کے تعلقات منقطع کر لئے ، کھانا پینا تک بند کر دیا۔غرض ہر طرح پریشان کیا لیکن اس بزرگ نے آخری لمحۂ حیات تک اپنے عزیز بھیجے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کے سر سے دست شفقت نہ اٹھایا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے دس برس قبل پیدا ہوئے۔ابو طالب کثیر العیال اور معاش کی تنگی سے نہایت پریشان تھے اس لئے رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے محبوب چچا کی عسرت سے متاثر ہو کر حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ: ہم کو اس مصیبت و پریشان حالی میں چا کا ہاتھ بٹانا ہے۔چنانچہ حضرت عباس نے حسب ارشاد جعفر رضی اللہ عنہ کی کفالت اپنے ذمہ لی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ انتخاب نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پسند کیا۔“ (سیر الصحابہ جلد 1 صفحہ 248 تا 250) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقام: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر میدان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تربیت فرمائی۔چنانچہ اس بارے میں بخاری اور مسلم مین لکھا ہے کہ: ”حضرت سعد ابن وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں جب آپ (علی رضی اللہ عنہ) کو مدینہ منورہ میں رہنے کا حکم دیا اور دیگر مجاہدین کے ساتھ نہیں لیا) تو آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے یہاں بچوں اور عورتوں پر اپنا خلیفہ بنا کر چھوڑے جاتے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ میں تمہیں اس طرح چھوڑے جاتا ہوں جس طرح موسیٰ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کو چھوڑ گئے تھے؟ بس فرق صرف اتنا ہے کہ میرے بعد آپ کی حیثیت نبی کی نہیں ہو گی۔“ (تاریخ الخلفا صفحہ 364۔ترجمہ: علامہ شمس بریلوی) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقام: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی عربی تصنیف سر الخلافہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو فرمایا اس کا اردو ترجمہ پیش ہے: حضرت علی رضی اللہ عنہ نہایت متقی تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جو خدائے رحمان کے نزدیک زیادہ محبوب ہوتے ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ برگزیدہ انسان، زمانہ کے سردار اور سخی اور پاک دل تھے۔آپ رضی اللہ عنہ نے نہایت غریبانہ زندگی گزاری اور نوع انسان کے زہد میں کمال کو پہنچ گئے تھے۔آپ رضی اللہ عنہ اموال کے عطا کرنے، غموں کو دور کرنے اور یتامی اور مساکین اور پڑوسیوں کو تلاش کر کے ان کی مدد کرنے میں سب پر سبقت لے جانے والے تھے۔پ رضی اللہ عنہ تلوار زنی اور تیر اندازی کے زبردست ماہر تھے اس کے ساتھ ساتھ آپ رضی اللہ عنہ بہت فصیح اور شیریں بیان تھے۔آپ رضی اللہ عنہ کی بات دل کے اندر تک اثر کرتی تھی۔