مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 59 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 59

اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک خط لکھا فرمایا:۔" مجھ سے انہی لوگوں نے بیعت کی ہے۔جنہوں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ سے بیعت کی تھی۔لہذا نہ تو حاضر کے لیے حق باقی رہ گیا ہے کہ بیعت میں اختیار سے کام لے اور نہ غیر حاضر کو حق ہے کہ بیعت سے روگردانی کرے۔شوری تو صرف مہاجرین و انصار کے لیے ہے اگر انہوں نے کسی آدمی کے انتخاب پر اتفاق کر لیا تو اسے امام قرار دے دیا تو یہ اللہ کی اور پوری اُمت کی رضا مندی کے لیے کافی ہے اگر امت کے اس اتفاق سے کوئی شخص اعتراض یا بدعت کی بنا پر خروج کرتا ہے تو مسلمان اسے حق کی طرف لوٹا دیں گے جس سے وہ خارج ہوا ہے۔انکار کرے گا تو اس سے جنگ کی جائے گی کیونکہ اس نے مومنوں کی راہ سے کٹ کر الگ راہ اختیار کی ہے اور خدا اس کو اس کی گمراہی کے حوالے کر دے گا اور اے معاویہ! میں یہ قسم کہتا ہوں کہ اگر تو نفس سے ہٹ کر عقل سے کام لے گا تو مجھے عثمان رضی اللہ عنہ کے خون سے بالکل بری الذمہ پائے گا کہ میرا اس خون سے دور کا بھی لگاؤ نہیں ، یہ الگ بات ہے کہ تو اپنے مطلب کے لیے تہمتیں تراشے۔خیر جو کرنا ہے کرتا رہ!“ (نہج البلاغہ - صفحہ 724) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں جب فتنہ پڑا تو اہل مصر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بولنے لگے، آپ رضی اللہ عنہ نے سختی سے ان کو دھتکار دیا اس واقعہ کو یوں بیان کیا جاتا ہے : اہل مصر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے وہ اس وقت مدینہ سے باہر ایک حصہ لشکر کی کمان کر رہے تھے اور ان کا سر کچلنے پر آمادہ کھڑے تھے ان لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ کر عرض کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بدانتظامی کے باعث اب خلافت کے قابل نہیں۔ہم ان کو علیحدہ کرنے کے لیے آئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ ان کے بعد اس عہدہ کو قبول کریں گے۔انہوں نے (حضرت علی رضی اللہ عنہ نے) ان کی بات سن کر اس غیرت دینی سے کام لے کر جو آپ رضی اللہ عنہ کے رتبہ کے آدمی کا حق تھا ان لوگوں کو دھتکار دیا اور بہت سختی سے پیش آئے اور فرمایا کہ: سب نیک لوگ جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی کے طور پر ذوالمرۃ اور ذو خشب (جہاں ان لوگوں کا ڈیرہ تھا) پر ڈیرہ لگانے والے لشکروں کا ذکر فرما کر ان پر لعنت فرمائی تھی۔(البداية والنهاية جز 7 صفحہ 174 مطبوعہ بیروت 1966ء) پس خدا تمہارا بُرا کرے تم واپس چلے جاؤ۔اس پر ان لوگوں نے کہا کہ بہت اچھا ہم واپس چلے جاویں گے اور یہ کہ کر واپس چلے گئے۔“ 66 انوارالعلوم جلد نمبر 4 صفحہ 237) کارنامے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کار ہائے نمایاں بے شمار ہیں جن میں سے چند ایک نمونہ پیش خدمت ہیں: 1) فوجی انتظامات: ”حضرت علی رضی اللہ عنہ خود ایک بڑے تجربہ کار جنگ آزما تھے اور جنگی امور میں آپ رضی اللہ عنہ کو پوری 59