مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 572
اُفق پر گاڑتے چلے جائیں گے۔تبلیغ کے میدان میں ہونے والی ترقیات ایسی غیر معمولی ہیں کہ متعصب مخالف بھی ان کو سراہنے پر مجبور ہو گئے ہی چنانچہ مصر سے شائع ہونے والے ایک متعصب اخبار " الفتح نے احمدیت کی ترقی کا اعتراف کچھ یوں کیا: ترجمه میں نے بغور دیکھا تو قادیانیوں کی تحریک حیرت انگیز پائی۔انہوں نے بذریعہ تقریر و تحریر مختلف زبانوں میں اپنی آواز بلند کی ہے اور مشرق و مغرب کے مختلف ممالک و اقوام میں بصرف کثیر اپنے دعویٰ کو تقویت پہنچائی ہے۔ان لوگوں نے اپنی انجمنیں منظم کر کے زبردست حملہ کیا ہے۔یہاں تک کہ ان کا معاملہ بہت بڑھ گیا ہے اور ایشیا، یورپ ، امریکہ اور افریقہ میں ان کے ایسے تبلیغی مراکز قائم ہو گئے ہیں جو علم و عمل کے لحاظ سے تو عیسائیوں کی انجمنوں کے برابر ہیں لیکن تاثیرات اور کامیابی میں عیسائی پادریوں کو ان سے کوئی نسبت نہیں۔قادیانی لوگ بہت بڑھ چڑھ کر کامیاب ہیں کیونکہ ان کے پاس اسلام کی صداقتیں اور پر حکمت باتیں ہیں۔جو بھی ان لوگوں کے حیرت زدہ کارناموں کو دیکھے گا اور واقعات کا پورا اندازہ کرے گا وہ حیران و ششدر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ کس طرح اس چھوٹی سی جماعت نے اتنا بڑا جہاد کیا ہے جسے کروڑوں مسلمان نہیں کر شخص سکے۔ان لوگوں نے اپنے اس تبلیغی جہاد اور اس میں کامیابی کو اپنے عقائد کی صداقت پر زبردست معجزہ قرار دیا ہے اور ایسا کہنے کا ان کو اس لئے موقع مل گیا کہ باقی نام کے مسلمان پر موت طاری ہو چکی ہے۔کیا اندریں حالات مسلمانوں پر واجب نہ تھا کہ اہل یورپ و امریکہ کے دماغوں سے ان گندے عقائد کو زائل کریں جو وہ دین اسلام اور نبی اسلام کے متعلق رکھتے ہیں۔در حقیقت ، مسلمانوں، امراء اغنیا، عوام اور علما پر فرض ہے لیکن آج ان اوہام کا ازالہ کون کر رہا ہے؟ یقیناً کوئی نہیں سوائے ان قادیانیوں کے۔صرف وہی ہیں جو اس راہ میں اپنے اموال اور جانیں خر چ کر رہے ہیں اور اگر دوسرے مدعیان اصلاح اس جہاد کے لئے بلائیں یہاں تک کہ ان کی آوازیں بیٹھ جائیں اور لکھتے لکھتے ان کے قلم شکستہ ہو جائیں تب بھی تمام عالم اسلام میں سے اس کا دسواں حصہ اکٹھا نہ کر سکیں گے جتنا یہ تھوڑی سی جماعت مال و افراد کے لحاظ سے خرچ کر رہی ہے۔“ (الفتح صفحہ 315 مؤرخہ 20 جمادی الثانی سن 1351 ہجری بحوالہ فرقان جنوری 1942ء صفحہ 3,4) حضرت خلیفة المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں تبلیغی سرگرمیوں کے لحاظ سے ایک خاص واقعہ یہ کہ حضرت خلیفة امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جماعت احمدیہ کا پہلا بیرونی مشن انگلستان (England) میں ابتدائی طور پر قائم ہوا۔حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے جماعت احمدیہ کے پہلے باقاعدہ مربی تھے جو دعوت الی اللہ کے لئے لندن بھیجے گئے۔(افضل 24 مئی 2006 ء) احمدیت دین حق کی اشاعت کرنے کے لئے قائم کی گئی ہے۔حضرت خلیفہ امسح الثانی رضی اللہ عنہ نے خلعت خلافت زیب تن کرنے کے بعد سب سے پہلے اس کی طرف توجہ دی پہلے اس کی طرف توجہ دی۔چنانچہ ایک طرف تو حضرت خلیفہ اُسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ و تفسیر تیار کرنے کا کام نئے سرے سے شروع کر دیا تا کہ اس کے ذریعے اکناف عالم میں دین حق کی اشاعت ہو سکے اور دوسری طرف حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مربیان تیار کرنے اور پھر انہیں مختلف ممالک میں بھجوانے کا انتظام کیا جسے بعد میں تحریک جدید کے سپرد کر دیا گیا۔انگلستان کے بعد سب سے پہلے ماریشس میں احمدیہ مشن قائم 572