مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 571 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 571

اس میں تبدیلی پیدا ہو کیونکہ مسلمان اپنی مدد آپ نہ کریں گے محنت نہ کریں گے، دیانتداری سے کام نہ کریر گے، اپنے آپ کو مفید نہ بنائیں گے تب تک ترقی نہ ہو گی۔۔۔مسلمانوں کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی امداد کے طالب ہوں۔دوسروں پر تو کل نہ کریں بلکہ خود عمل کریں اور خدا تعالیٰ کے ماننے والوں میں سے ہوں۔“ فرمودہ 5 جولائی 1930 ء بمقام سرینگر۔تاریخ احمدیت جلد 5 صفحہ 140) حضرت خلیفة أصبح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے جماعتی تعلیم و تربیت اور دعوت الی اللہ کے ضمن میں جو خطبات و تقاریر کیں اور علمی لیکچرز دیئے وہ علم الادیان، علم الابدان اور علم الکلام کا عظیم علمی شاہکار ہیں۔اسی طرح حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالٰی کا رمضان المبارک میں درس القرآن، مجالس سوال و جواب اور مجالس علم و عرفان اور دیگر علمی اور ادبی کلاسز حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی وسعت علمی اور وسعت نظری کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور جماعت کی تعلیم و تربیت اور دعوت الی اللہ کے لئے انتہائی مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔( الفضل 24 مئی 2006ء) اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کی آواز میں ایک تاثیر رکھ دیتا ہے جس سے ہر طرح کی عقل و فہم رکھنے والا انسان متاثر ہوتا خلفائے احمدیت کے خطبات و خطابات کو براہ راست سننے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ خلافت کے اس فیضان کو اچھی طرح جذب کرنے والے بن سکیں۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک بار فرمایا تھا کہ: ہے۔”میرا دل چاہتا ہے کہ ہر احمدی میری آواز میں میری بات خود سن لے۔اگر (اردو) نہیں سمجھ سکتا تو اس کے ترجمے اس تک پہنچ جائیں اور ان ترجموں کو سن کر وہ فائدہ اٹھائے کیونکہ وہ الفاظ دل کی گہرائی سے نکلتے ہیں۔خواه فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے ان میں کیسے ہی نقص کیوں نہ ہوں لیکن بڑا فرق ہے اور سچے دل کے درد سے جو بات اٹھتی ہے، اس کا اور اثر ہوتا ہے۔“ انتظامی فیضان روزنامه الفضل سالانہ نمبر 1991ء) جماعت احمد یہ خدا کے فرستادہ کی جماعت ہے۔اس کے افراد جہاد اکبر یعنی اپنے نفوس کی اصلاح و تزکیہ کے علاوہ جہاد ریعنی اعلاء کلمتہ اللہ اور تبلیغ اسلام میں ہمہ تن مشغول ہیں۔چنانچہ اس چھوٹی سی جماعت نے اپنی بے سروسامانی کے باوجود محض خدا کے فضل سے مغربی اور مشرقی ممالک میں تبلیغی مراکز قائم کر لئے ہیں۔اسی جماعت کے مبلغین و مجاہدین امریکہ کی دور افتادہ سر زمین میں خدائے واحد کے نام کی منادی کر رہے ہیں اور سینکڑوں تثلیت پرستوں کو حلقہ بگوش اسلام کر چکے ہیں۔اسی جماعت کے مبلغین و مجاہدین براعظم افریقہ کے مغربی کناروں اور مشرقی اطراف میں تبلیغ دین کا فرض بجا لا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کی مساعی کو بار آور کیا اور ہزار ہا نفوس شرک کے تاریک گڑھے سے نکل کر توحید کے بلند مینار پر پہنچ گئے۔یورپین ممالک میں بھی اسی جماعت حقہ کے جانباز فرزند پرچم توحید کو تھامے کھڑے ہیں۔احمدی خواتین ہی کے زیورات اور چندوں سے انگلستان میں مسجد قائم ہوئی۔مشرق وسطی، چین و جاپان اور جاوا سماٹرا میں اسی جماعت کے سرفروش اسلام کی تبلیغ بجا لاتے ہیں۔آج بلاد عربیہ اور ماریشس وغیرہ مبلغین احمدیت کے ذریعہ ہی آسمانی آواز کے شنوا ہو رہے ہیں۔غرض اسلام کی اس نشاة ثانیہ میں یہ جماعت صحابہ کے نقش قدم پر گامزن ہے اور اسے غیر معمولی کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔(فرقان جنوری 1942 ء ) یہ تمام تر کامیابیاں اس اعلیٰ قیادت کے مرہونِ منت ہیں جس کے ایک اشارے پر لاکھوں جانیں قربان ہونے کو تیار ہیں۔اللہ تعالیٰ خلافت کے فیضان کو تاقیامت ہمارے سروں پر سلامت رکھے تا کہ ان کی رہنمائی میں ہم توحید کے پرچم پر نئے 571