مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 570 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 570

دلوں میں جاگزیں کی اور جماعت میں انشقاق کا بیج بونے والوں کا قلع قمع کیا۔چنانچہ 31 جنوری 1909 ء بروز اتوار جماعت کے سر کردہ ممبران کو قادیان میں جمع کر کے مسجد مبارک میں ایک تقریر فرمائی جس میں مسئلہ خلافت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈال کر جماعت کو بتایا کی اصل چیز خلافت ہی ہے جو نظام اسلامی کا ایک اہم اور ضروری حصہ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے بھی خلافت ہی کا ثبوت ملتا ہے۔۔۔۔۔۔آپ رضی اللہ عنہ کی یہ تقریر اس قدر دردناک اور رقت آمیز تھی کہ اکثر حاضرین بے اختیار ہو کر رونے لگے اور منکرین خلافت نے بھی معافی مانگ کر آپ کو خلافت کے قدموں میں ڈال دیا۔“ پینے (سلسلہ احمدیہ صفحہ 314) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کا دور خلافت بھی اس امر کا بین ثبوت ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے خطبات، خطابات اور تقاریر کے ذریعہ سے سے جماعت کی بنیاد کو مستحکم کیا۔اسی طرح خلافت ثانیہ میں اٹھنے والے فتنوں کامنہ توڑ جواب دیا۔1934ء کا دور ہو یا 1953 ء کا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے جماعت کی ہر لمحہ ایسی رہنمائی فرمائی کہ جس سے افراد جماعت کے ایمان کو مضبوطی حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ دشمن عناصر اپنے بدارادوں میں ناکام رہے۔علاوہ ازیں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے مختلف اوقات میں حالات کی مناسبت سے خطبات کا سلسلہ جاری کیا جس پیش آنے والے ممکنہ حالات سے جماعت کو آگاہ کیا۔مثال کے طور پر جب حضرت خلیفۃ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے 5 جون 1929 ء تا 30 ستمبر 1929 ء کشمیر میں قیام فرمایا تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے دورانِ قیام ریاست کشمیر و جموں کی جماعت احمد یہ اور دوسرے مسلمانوں کو اپنی تقریروں اور خطبوں میں ایمان کے ساتھ عمل صالح اختیار کرنے کی طرف بار بار توجہ دلائی اور مختلف طریقوں اور تدابیروں سے ان کو اخلاقی ، پہنی اور روحانی تغیر پیدا کرنے کی انقلاب انگیز دعوت دی اور خصوصاً کشمیری احمدیوں کو ان کی تنظیمی اور تبلیغی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ فرمایا۔اس سلسلہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کے خطبات و تقاریر کے بعض اقتباسات درج کئے جاتے ہیں۔یہاں کی جماعت تنظیم کی طرف توجہ نہیں کرتی۔اگر وہ منتظم جماعت کی صورت میں ہو اور تبلیغی کوششوں میں لگ جائے تو ریاست میں اچھا اثر پڑے۔اس علاقہ میں جماعتیں تو موجود ہیں اور اچھی جماعتیں ہیں مگر چونکہ ان کی کوئی تنظیم نہیں اس لئے علاقہ پر اثر نہیں پڑتا۔۔۔اگر ایسا ہو جائے تو مسلمان ترقی کر سکتے ہیں۔“ (فرمودہ 27 جون 1929 ء بمقام سری نگر تاریخ احمدیت جلد 5 صفحہ 140) -1 -2 صحیح طریق یہ ہے کہ انسان ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ حاصل کرنے کی کوشش کرے اور جس قدر کسی کی طاقت ہو اس قدر کرے اس سے وہ اپنی حالت میں ایک پورا درخت ہو جائے گا جو بیش و مدد دوسروں کیلئے فائدہ کا موجب ہوگا اس کے اندر حسن سلوک کی عادت احسان کرنے کا مادہ ہو، لوگوں کی کرنے اور بھلائی کرنے کی عادت ہو الغرض تمام قسم کی نیکیاں کم و بیش اس کے اندر ہوں۔۔۔۔۔۔تب ہی اس کے اندر سر سبز درخت والی خوبصورتی پیدا ہوگی۔“ (فرمودہ 21 جون 1929ء بمقام سری نگر خطبات محمود جلد 12 صفحہ 125 و 126) سمجھیں -3 جو باتیں مسلمانوں نے چھوڑ دی ہیں جب تک وہ دوبارہ ان میں پائی نہ جائیں کبھی اور کسی حال میں ترقی نہیں کر سکتے۔محنت کی عادت ڈالیں، دوسروں پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیں، خدمت خلق کو اپنا فرض تب وہ ترقی کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اسلام کیونکہ اچھی چیز تھی اس وقت تک اس ملک میں اسلام کی خوبیوں کا نقش موجود ہے۔گو مسلمان اپنی غفلت کی وجہ سے مٹا دیئے گئے یہاں کشمیر میں بھی یہی مرض پایا جاتا ہے اسلئے میں نے اپنے خطبے میں اس طرز کے بیان کرنے شروع کئے ہیں کہ مسلمانوں میں عمل نہ کرنے کی وجہ جو پستی ہے 570