مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 56
اس کے بعد ایک اور شخص سودان نامی آگے بڑھا اور اس نے تلوار سے آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنا چاہا۔پہلا وار کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اس کو روکا اور آپ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ کٹ گیا اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: خدا تعالیٰ کی قسم ! یہ وہ ہاتھ ہے جس نے سب سے پہلے قرآن کریم لکھا تھا۔اس کے بعد اس نے دوسرا وار کر کے آپ کو قتل کرنا چاہا تو آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی نائلہ وہاں آ گئیں اور اپنے آپ کو بیچ میں کھڑا کر دیا لیکن اس شقی نے ایک عورت پر وار کرنے سے بھی دریغ نہ کیا اور وار کر دیا جس سے آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی کی اُنگلیاں کٹ گئیں اور وہ علیحدہ ہو گئیں۔پھر اس نے ایک وار حضرت عثمان رضی اللہ کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو سخت زخمی کر دیا اس کے بعد اس شقی نے یہ خیال کر کے کہ ابھی جان نہیں نکلی شاید بچ جاویں اسی وقت جب کہ زخموں کے صدموں سے آپ رضی اللہ عنہ بے ہوش ہو چکے تھے اور شدت درد سے تڑپ رہے تھے آپ رضی اللہ عنہ کا گلا پکڑ کر گھونٹنا شروع کیا اور اس وقت تک آپ رضی اللہ عنہ کا گلا نہیں چھوڑا جب تک آپ کی روح جسم خاکی سے پرواز کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو لبیک کہتی ہوئی عالم بالا کو پرواز نہیں کر گئی: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ سلسلۂ نسب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ: عنہ پر اسلام میں اختلاف کا آغاز - انوار العلوم جلد نمبر 4 صفحه 267 و 268) آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب اس طرح سے ہے: علی ابن ابی طالب جن کا نام عبد مناف تھا جن کا نام مغیرہ تھا بن قصی جن کا نام زید تھا بن کلاب بن مرہ بن لوی غالب بن فہر بن مالک بنضر بن کنانہ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوالحسن اور ابو تراب مقرر فرمائی۔آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد بن ہاشم ہے یہ وہ پہلی ہاشمی خاتون ہیں جن کے بطن سے ایک عظیم الشان ہاشمی رونق افروز ہوا۔یہ سب سے پہلے اسلام لائیں اور ہجرت کی۔رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت کرتے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ہمارے جانے کے بعد تم مکہ میں تھوڑا عرصہ قیام کر کے لوگوں کی امانتیں اور وصایا وغیرہ جو ہمارے پاس محفوظ ہیں وہ ان پہنچا دینا اس کے بعد ہمارے پاس چلے آنا۔چنانچہ احکام رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی آپ رضی اللہ عنہ نے حرف بہ حرف تعمیل کی۔“ تاريخ الخلفا صفحه 195 و 196) سیر الصحابہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھا ہے کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے والد ابو طالب مکہ کے ذی اثر بزرگ تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کی آغوش شفقت میں پرورش پائی تھی۔مشرکین قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پناہی اور حمایت کے باعث ابو طالب اور ان کے خاندان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ایک گھائی میں اُن کو محصور کر دیا، کاروبار اور لین دین بند کر دیا، 56