مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 540 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 540

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اطاعت رسول بھی جس کا اس آیت میں ذکر ہے خلیفہ کے بغیر نہیں ہو سکتی کیونکہ رسول کی اطاعت کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ سب کو وحدت کے ایک رشتہ میں پرو دیا جائے۔یوں تو صحابہ رضی اللہ عنہم بھی نمازیں پڑھتے تھے اور آج کل کے مسلمان بھی نمازیں پڑھتے ہیں۔صحابہ رضی اللہ عنہم بھی حج کرتے تھے اور آج کل کے مسلمان بھی حج کرتے ہیں۔پھر صحابہ رضی اللہ عنہم اور آج کل کے مسلمانوں میں فرق کیا ہے؟ یہی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں ایک نظام کا تابع ہونے کی وجہ سے اطاعت کی روح حد کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔چنانچہ رسول کریم صلہ انہیں جب بھی کوئی حکم دیتے صحابہ رضی اللہ عنہم اُسی وقت اُس پر عمل کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے لیکن یہ اطاعت کی روح آج کل کے مسلمانوں میں نہیں۔۔۔۔۔کیونکہ اطاعت کا مادہ نظام کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔پس جب بھی خلافت ہو گی اطاعت رسول بھی ہو گی۔“ (تفسیر کبیر جلد 6۔صفحہ 369) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خلافت اسلام کا ایک اہم جزو ہے اور جو اس سے بغاوت کرتا ہے وہ اسلام سے بغاوت کرتا ہے۔اگر ہمارا یہ خیال درست ہے تو جو لوگ اس عقیدہ کو تسلیم کرتے ہیں ان کے لئے الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَّرَآئِه - کا حکم بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ خلافت کی غرض تو یہ ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد عمل اور اتحادِ خیال پیدا کیا جائے اور اتحاد عمل اور اتحاد خیال خلافت کے ذریعہ سے تبھی پیدا کیا جا سکتا ہے، اگر خلیفہ کی پر پورے طور پر عمل کیا جائے اور جس طرح نماز میں امام کے رکوع کے ساتھ رکوع اور قیام کے ساتھ قیام اور سجدہ کے ساتھ سجدہ کیا جاتا ہے اسی طرح خلیفہ وقت کے اشارہ کے ماتحت ساری جماعت چلے اور اس کے حکم سے آگے نکلنے کی کوشش نہ کرے۔نماز کا امام جو صرف چند مقتدیوں کا امام ہوتا ہے جب اس کے بارہ میں رسول کریم ملالہ فرماتے ہیں کہ جو اس کے رکوع اور سجدہ میں جانے سے پہلے رکوع یا سجدہ میں جاتا ہے یا اس سے پہلے سر اٹھاتا ہے وہ گنہگار ہے، تو شخص ساری قوم کا امام ہو اور اس کے ہاتھ پر سب نے بیعت ہو، اس کی اطاعت کتنی ضروری سمجھی جائے گی۔ہدایات کی اسی طرح تم سب امام کے اشارہ پر چلو اور اس کی ہدایت سے ذرہ بھر بھی ادھر اُدھر نہ ہو۔جب وہ حکم دے بڑھو اور جب وہ حکم دے ٹھہر جاؤ! اور جدھر بڑھنے کا حکم دے اُدھر بڑھو اور جدھر سے ہٹنے کا حکم دے اُدھر سے ہٹ آؤ۔(انوار العلوم جلد 14 صفحہ 515-516 - قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض) حضرت خلیفة أصبح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد فرمایا: و جس کو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے ڈھال بنایا تھا اس ڈھال کو اس نے ہم سے لے لیا اور اس نے مجھے آگے کر دیا۔میں بہت ہی کمزور بلکہ کچھ بھی نہیں۔شاید مٹی کے ایک ڈھیلے میں مدافعت کی قوت مجھ سے زیادہ ہو، مجھ میں تو وہ بھی نہیں لیکن جب سے ہمیں ہوش آئی ہے ہم یہی سنتے آئے ہیں کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔اگر یہ سچ ہے اور یقیناً یہ سچ ہے تو پھر نہ مجھے گھبرانے کی ضرورت ہے اور نہ آپ میں سے کسی کو گھبرانے کی ضرورت ہے۔جس نے یہ کام کرنا ہے وہ یہ کام ضرور کرے گا اور یہ کام ہو کر رہے گا لیکن کچھ ذمہ داریاں مجھ پر عائد ہیں اور کچھ آپ پر۔میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر آپ لوگوں کو گواہ ٹھہراتا ہوں اس بات پر کہ ہوتی 540