مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 541
جہاں تک اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھ دی ہے، جہاں تک اس نے مجھے توفیق دی ہے، جہاں تک اس نے مجھے طاقت دی ہے ، آپ مجھے اپنا ہمدرد پائیں گے، میں ہر لمحہ اور ہر لحظہ دعاؤں کے ساتھ اور اگر کوئی وسیلہ بھی مجھے حاصل ہو تو اس وسیلہ کے ساتھ آپ کا مددگار رہوں گا اور میں اپنے رب سے امید رکھتا ہوں کہ وہ آپ کو بھی یہ توفیق دے گا کہ آپ صبح و شام اور رات اور دن اپنی دعاؤں سے، اپنے اچھے مشوروں سے، اپنی ہمدردیوں سے اور اپنی کوششوں سے میری اس کام میں مدد کریں گے کہ خدا تعالیٰ کی توحید دنیا میں قائم ہو اور محمد رسول کریم ص کا جھنڈا تمام دنیا میں لہرانے لگے۔۔۔دنیا انشاء اللہ یہ نظارے دیکھے گی مگر ہم میں سے ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اپنی بساط کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتا رہے۔6 صلى الله ( الفضل 3 دسمبر 1965ء) حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے احباب جماعت کو خلیفہ وقت کے دامن کو مضبوطی سے پکڑے رکھنے کی وہ محمد صل الله نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: پس اے میرے عزیز بھائیو! جو مقامات قرب تمہیں حاصل ہیں اگر انہیں قائم رکھنا چاہتے ہو اور روحانیت میں ترقی کرنا چاہتے ہو تو خلیفہ وقت کے دامن کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا کیونکہ اگر یہ دامن چھوٹا تو محمد رسول کریم ملالہ کا دامن چھوٹ جائے گا کیونکہ خلیفہ وقت اپنی ذات میں کوئی شے نہیں اسے جو مقام بھی حاصل ہے کا دیا ہوا مقام ہے نہ اس میں اپنی کوئی طاقت نہ اس میں کوئی اپنا علم۔پس اس شخص کو نہ دیکھو، اس کرسی کو دیکھو جس پر خدا اور اس کے رسول نے اس شخص کو بٹھا دیا ہے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے جس خلافت راشدہ کے وقت میں جتنے زیادہ خلفا اس دوسرے سلسلہ کے ہوں گے یعنی سلسلہ خلافت ائمہ کے جو مضبوطی کے ساتھ اس کے دامن کو پکڑے ہوئے ہوں گے اور جن کے سینہ میں وہی دل جو خلیفہ وقت کے سینہ میں دھڑک رہا ہے، دھڑک رہا ہو گا۔آنحضرت ملاقہ کی قوت قدسیہ ان کو طاقت بخشتی رہے گی۔آپ کے روحانی فیوض سے وہ حصہ لیتے رہیں گے اتنا ہی اسلام ترقی کرتا چلا جائے گا اور دنیا میں غالب آتا چلا جائے گا اور غالب رہتا چلا جائے گا۔اور اللہ تعالیٰ کے انعامات اور اس کے فضلوں کو انسان حاصل کرتا چلا جائے گا لیکن جو شخص خلافت راشدہ کے دامن کو چھوڑتا ہے اور خلافت راشدہ کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس شخص پر خدا تعالیٰ اپنی حقارت کی نظر ڈالتا ہے اور وہ اس کے غضب اور قہر کے نیچے آجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ایسا سامان پیدا کرے کہ ہم میں استثنائی طور پر بھی کوئی ایسا بد قسمت پیدا نہ ہو۔“ خلافت و مجددیت - صفحہ 48 - 49 - بر موقع اجتماع انصار الله 1968 ء) حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: پہلے سبق کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی منشا اپنے سلسلہ میں خلافت راشدہ کو قائم رکھنے کی ہے۔اس وقت تمام برکتیں خلافت سے وابستہ ہوتی ہیں۔اور ہر وہ شخص جو اس نکتہ کو نہیں سمجھتا وہ ان برکتوں سے محروم رہ جاتا ہے۔میرا یہ تجربہ ہے ذاتی کہ بعض لوگ جو اس نکتہ کو نہیں سمجھتے ان کے حق میں میری دعائیں قبول نہیں بلکہ رد کر دی جاتی ہیں حالانکہ میں نے اپنے لئے یہ طریق اختیار کیا ہے کہ اگر کوکسی شخص کے متعلق مجھے یقین بھی ہو جائے کہ وہ خلافت کی اہمیت کو نہیں سمجھتا اور اس کے دل میں خلافت کے نظام سے وہ محبت اور پیار نہیں جو ایک احمدی کے دل میں ہونی چاہئے۔تب بھی میں اس کیلئے دعا کرتا رہتا ہوں۔اور دعا کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتا۔اس کے لئے دعا کرنا میرا کام ہے میں اپنا کام کر دیتا ہوں۔دعا قبول کرنا میرے رب کا کام ہے اور میں نے اکثر یہ دیکھا ہے کہ ایسے لوگوں کے حق میں میری دعائیں قبول نہیں ہوتی۔541