مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 539 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 539

سنبھال لیں۔میرے سپرد آپ چپڑاسی کا کام بھی کر دیں گے تو میں اسے خوشی سے کروں گا لیکن خلیفہ وقت کا حکم بہر حال جاری ہونا چاہئے۔حضرت عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے کہا کمان تو مجھے لینی ہی پڑے گی کیونکہ خلیفہ وقت کی طرف سے یہ حکم آچکا ہے لیکن تم کام کرتے جاؤ۔خالد رضی اللہ عنہ نے کہا آپ حکم دیتے جائیں، میں کام کرتا چلا جاؤں گا۔چنانچہ بعد میں ایسے مواقع بھی آئے کہ جب ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میں سوسو عیسائی تھا لیکن خالد رضی اللہ عنہ نے ہمیشہ یہی مشورہ دیا کہ آپ ان کے ساتھ مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہیں۔خدا تعالیٰ کے اس وعدہ پر یقین رکھو کہ اسلام اور احمدیت نے دنیا پر غالب آنا ہے۔اگر یہ فتح تمہارے ہاتھوں سے آئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت تمہارے لئے وقف ہو گی کیونکہ تم اسلام کی کمزوری کو قوت سے اور اس شکست کو فتح سے بدل دو گے۔خدا تعالیٰ کہے گا گو قرآن کریم میں نازل کیا ہے لیکن اس کو دنیا میں قائم ان لوگوں نے کیا ہے۔پس اس کی برکات تم پر ایسے رنگ میں نازل ہوں گی کہ تم اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرو گے اور وہ تمہاری اولاد کو بھی ترقیات بخشے گا۔“ و (فرموده 9 دسمبر 1955ء مطبوعہ الفضل 18 دسمبر 1955ء) ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس طرح وہی شاخ پھل لا سکتی ہے جو درخت کے ساتھ ہو۔وہ کئی ہوئی شاخ پھل پیدا نہیں کر سکتی جو درخت سے جدا ہو۔اس طرح وہی شخص سلسلہ کا مفید کام کر سکتا ہے جو اپنے آپ کو امام سے وابستہ رکھتا۔اگر کوئی شخص امام کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ نہ رکھے تو خواہ وہ دنیا کے علوم جانتا ہو وہ اتنا بھی کام نہیں کر سکے گا جتنا بکری کا بکر وٹا۔پس اگر آپ نے ترقی کرنی ہے اور دنیا پر غالب آتا ہے تو میری آپ کو نصیحت ہے اور میرا یہی پیغام ہے کہ آپ خلافت سے وابستہ ہو جائیں۔اس حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ہماری ساری ترقیات کا دارو مدار خلافت سے وابستگی میں ہی پنہاں ہے۔“ الفضل انٹر نیشنل 23 تا 30 مئی 2003ء صفحہ (1) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالٰی عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: پھر خلافت کے ذکر کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَ أتُوا الزَّكَوةَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ یعنی جب خلافت کا نظام جاری کیا جائے تو اس وقت تمہارا فرض ہے کہ تم نمازیں قائم کرو اور زکوۃ دو اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت کرو۔گویا خلفا کے ساتھ دین کی تمکین کر کے وہ اطاعتِ رسول کرنے والے ہی قرار پائیں گے۔یہ وہی نکتہ ہے جو رسول کریم صلى الله نے ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ مَنْ أَطَاعَ اَمِيْرِى فَقَدْ اَطَاعَنِى وَمَنْ عَصَى أَمِيُرِكْ فَقَدْ عَصَانِی یعنی جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔پس وَ اَقِیمُوا الصَّلوةَ وَاتُوُا الزَّكَوةَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُون - فرما کر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اس وقت رسول کریم کی اطاعت اسی رنگ میں ہو گی کہ اشاعت و تمکین دین کے لئے نمازیں قائم کی جائیں۔زکوتیں دی جائیں اور خلفا کی پورے طور پر اطاعت ،طور بچے اطاعت کی جا اطاعت کی جائے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اقامتِ صلوٰۃ اپنے صحیح معنوں میں خلافت کے بغیر نہیں ہوسکتی۔“ ( تفسیر کبیر از حضرت مصلح موعود جلد 6 - صفحہ 367) 539