مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 494 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 494

لاکھ ننانوے ہزار بلکہ اس سے بھی کم رہ جاتی ہے۔اور اس دس لاکھ ننانوے ہزار روپیہ کی آمد سے بارہ لاکھ ننانوے ہزار کے اخراجات چلانا کسی انجمن کی طاقت سے باہر ہے۔درحقیقت یہ بحث اخراجات کی کمیٹی کے سامنے اٹھانی چاہئے تھی کہ اس قدر اخراجات کم کر دیئے جائیں۔کالج بند کر دو۔زنانہ کالج بند کردو لنگر خانہ بند کر دو۔نظارت امور عامہ بند کردو۔نظارت اصلاح و ارشاد کے کارکنوں کو رخصت کر دو اور اخراجات کے بجٹ کو دس لاکھ ننانوے ہزار پر لے آؤ۔ورنہ یہ کہ خرچ تو وہی رکھو آمد تقسیم کر لو یہ وہی بات ہے جیسے کوئی ایک ناممکن چیز کی خواہش کرے یا جیسے بچے روتے ہیں تو کہتے ہیں ستارے دے دو۔دس لاکھ ننانوے ہزار میں بارہ لاکھ ننانوے ہزار کے اخراجات کا بجٹ پورا کرنا بھی ستارے لانے والی بات ہے یہ ایک ناممکن العمل بات ہے اس لئے اس تجویز پر رائے دیتے وقت سوچ لیا جائے کہ آیا اس بجٹ کو نامنظور کیا جائے یا رہنے دیا جائے کیونکہ تخفیف کے بعد خرچ نہیں چل سکتا۔کہا گیا ہے کہ اس کی ضرورت ہے۔ٹھیک ہے اس کی ضرورت ہے لیکن اگر کوئی ضرورت ہو تو اس کے لئے آمد بڑھائی جانی چاہئے۔دعائیں کرتے رہو اللہ تعالیٰ کو سب طاقت ہے اور وہ سب برکتیں دے سکتا ہے۔ایک وقت وہ تھا کہ جب مجھے خلیفہ بنایا گیا۔تو خزانہ مقروض تھا اور اس میں صرف اٹھارہ آنے تھے اور اب آپ کا بجٹ تحریک کے سالانہ بجٹ کو ملا کر انتیس لاکھ روپے کا ہے۔اب دیکھو کجا اٹھارہ آنے اور کجا انتیس لاکھ روپیہ۔تو اللہ تعالیٰ میں بڑی طاقت ہے۔(رپورٹ مجلس مشاورت 1957 ء صفحه 83 تا 91 از سوانح فضل عمر جلد 2 صفحہ 201 تا 203 ) سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: مشورہ صحیح وہی نہیں ہوا کرتا جو آخر میں منظور ہو جائے بلکہ ہر وہ مشورہ ( خواہ وہ مانا جائے یا نہ مانا جائے) جو ضي دیانتداری کے ساتھ ، خلوص کے ساتھ اور نیک نیتی کے ساتھ آپ پیش کرتے ہیں وہ صحیح مشورہ ہے۔اور میں یہاں اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ آپ کے مشوروں کو سننے کے بعد جب میں کسی نتیجہ پر پہنچوں اور کسی کام کے کرنے کا ارادہ اور عزم کروں تو محض اپنے رب پر توکل رکھتے ہوئے اور اس کی زندہ طاقتوں اور زندہ قدرتوں پر یہ امید رکھتے ہوئے کہ میری کوشش میں جو میں کروں یا کرواؤں، وہ برکت ڈالے گا۔میں وہ عزم کروں اور دل میں دعا کروں کہ اللہ تعالیٰ ان نیک کاموں میں ہماری راہبری بھی کرے کیونکہ مشوروں میں جہاں اس کی ہدایت کی ضرورت ہے۔وہاں عمل میں بھی اس کی ہدایت کی ضرورت ہے اور وہ ہماری حقیر کوششوں میں برکت ڈالے اور ان کے ایسے شاندار نتائج نکالے جو اس کی نگاہ میں بھی شاندار ہوں۔رپورٹ مجلس مشاورت 1967 ء صفحہ 6 ) سیدنا حضرت اقدس خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے سورہ آل عمران آیت 160 کی تلاوت کے بعد فرمایا: اس آیت کی تلاوت میں نے اس لئے کی ہے کہ آج کل جو مارچ کا موسم ہے اس میں جماعت احمد یہ عالمگیر میں کثرت سے مجالس شوری منعقد کی جاتی ہیں۔بعض مجبوریوں کی وجہ سے تاخیر سے بھی کرتے ہیں مگر یہ وہ موسم ہے جس میں اکثر مجالس شوری کا انعقاد ہوتا ہے اور یہ جو ادارہ ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب دنیا میں چکا ہے۔زیادہ سے زیادہ ہماری کوشش ہے کہ بڑے بڑے ملکوں کے علاوہ چھوٹے ملکوں میں بھی نظام شوری قائم کیا جائے کیونکہ یہ حضرت اقدس محمد مصطفی مطلقہ کی سنت تھی کہ آپ مشورہ کیا کرتے تھے حالانکہ اگر انسانوں میں سے کسی کو سب سے کم مشورے کی ضرورت ہے تو وہ آنحضرت مخالہ کو تھی کیونکہ خدا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نگہبان تھا، خدا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت فرمایا کرتا تھا اور اس کے باوجود مشورہ کرنا آپ صلی ہو 494