مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 495
الله علیہ وسلم کی سنت تھی جسے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترک نہیں کیا۔تو عملاً مجالس شوری کا انعقاد اس زمانے میں تو تقریباً ہر روز ہی ہوا کرتا تھا یعنی جس سے بھی رسول اللہ صلی اللہ پسند فرماتے اس سے مشورہ کر لیا کرتے تھے۔اس کو باقاعدہ انسٹیٹیوٹ (Institute) بنا کر جماعت احمدیہ میں رائج کیا گیا ہے اور مرکزی بات ج جو بنیادی بات ہے وہ میں یہ بتانی چاہتا ہوں کہ اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنتَ لَهُمْ ، وَ لَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرُلَهُمْ وَ شَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ ۚ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكَّلِینَ۔کہ مشورہ تو کرنا ہے اس لئے کہ تیری بات، تیرے وجود، تیری ہر چیز سے یہ محبت کرتے ہیں اور تیرا بہت نرم دل ہے اور تیری طرف جھکے رہتے ہیں تو مشورہ سے ان کو ایمانی تقویت نصیب ہوتی ہے لیکن فیصلہ تونے کرنا ہے۔مشورہ جو بھی ہے اس سے قطع نظر کہ وہ کیا مشورہ ہے آخری فیصلہ تیرا ہے۔پس صلح حدیبیہ کے موقع پر دیکھئے کہ تمام صحابہ کا ایک ہی مشورہ تھا کہ چاہے قتل و غارت کرنا پڑے، اپنے خون سے ہولی کھیلنی پڑے لیکن ہم ضرور خانہ کعبہ حج پر جائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیا پوری ہو گی جس میں کسی سال کا کوئی ذکر نہیں تھا مگر صحابہ نے یہی سمجھا کہ اسی سال یہ رویا پوری ہوتی ہے۔اس وقت بھی حضور اکرم ملحقہ نے تمام صحابہ کا مشورہ ترک فرما دیا، نظر انداز فرما دیا اور اس میں کوئی بھی استثنا نہیں تھا۔فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى الله جب عزم کر لیا تو پھر اللہ پر ہی تو کل کے نتیجے میں صلح حدیبیہ سے ہی پھر آئندہ ساری فتوحات کی بنیاد ڈالی گئی اور عظیم الشان صلح کی شرائط تھیں جس نے اگلے زمانے کی گویا کایا پلٹ دی۔تو اس پہلو سے میں سب شوری میں شامل لوگوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ مجلس شوریٰ میں جو فیصلے ہوتے ہیں ان میں فیصلوں سے زیادہ لفظ مشورے کا اطلاق ہونا چاہئے جو مجلس شوری کی جان ہے۔فیصلہ ہوتا ہی کوئی نہیں۔مشورے ہوتے ہیں اور جو کثرت رائے سے مشورے ہوں ان کو پھر امیر کی معرفت خلیفہ اسیح کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے اور پھر وہاں فیصلہ ہوتا ہے۔پس آپ بھی اس طریقے کو چمٹے رہیں کیونکہ اسی میں برکت ہے اسی میں جماعت کی زندگی کا راز ہے۔مجلس شوری ایک بہ مجلس شوری ایک بہت بڑا احسان ہے اللہ تعالیٰ کا جو خدا تعالیٰ نے یہ نظام ہمارے اندر جاری فرما کے ہمیں ایک ہاتھ پر باندھ دیا۔تو میں امید رکھتا ہوں کہ اس اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپ ہر جگہ مشورے کریں گے اور توکل اللہ پر ہی کریں گے۔جب فیصلہ جماعت کی طرف سے کیا جائے تو پھر تو کل کا مقام ہے اور خدا تعالیٰ کبھی بھی اس تو کل کو ضائع نہیں فرماتا۔“ (خطبه جمعه فرمودہ 24 مارچ 2000 ء ) حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”جماعت احمدیہ میں مجلس مشاورت کا نظام نظام خلافت سے وابستہ اور اس پر منحصر ہے اور جماعت احمدیہ کے نزد یک خلیفہ اُس شَاوِرُ هُمْ فِي الْأَمْرِ کے مخاطب کی حیثیت سے جب چاہے اور جس رنگ میں چاہے مشورہ کے لیے صائب الرائے احباب کو دعوت دے سکتا ہے۔ہر ایسے مشورہ کی ابتدا دعاؤں اور ذکر الہی کے ساتھ ہوتی ہے تاکہ فیصلہ کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا خوف اور تقویٰ مدنظر رہے اور اس کی نصرت اور رہنمائی شامل حال رہے۔ہر وہ شخص جسے کوئی مشورہ پیش کرنا ہو اسے پوری آزادی ہے کہ باجازت صدر مجلس بے تکلفانہ رائے کا اظہار کر ہے لیکن ضروری ہے کہ اس مشورہ میں اصل مخاطب حاضرین مجلس نہ ہوں بلکہ خلیفہ اسیح ہوں۔بعد مشورہ خلیفہ اسی کو پورا اختیار ہے کہ خواہ کثرت رائے کے مشورہ کو قبول کریں یا رد کر دیں۔یہ جماعت کی مجلس 495