مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 493
(رپورٹ مجلس مشاورت 1922 ، صفحہ 8 تا 13 ) حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ، حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے کثرت رائے سے اختلاف کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: نمائندگان شوری کی کثرت رائے سے اختلاف کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔جہاں جہاں بھی حضرت خلیفہ المسیح الثانی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ نے کثرتِ رائے سے اختلاف کیا تو اس اختلاف کی وجہ بیان فرمائی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ صرف اس وقت کے حاضر ممبران آپ رضی اللہ عنہ کی رائے سے دلی طور پر مطمئن ہو گئے بلکہ آج بھی ہر معقول آدمی ان معاملات پر نظر ڈال کر یقیناً اس فیصلہ تک پہنچے گا کہ آپ رضی اللہ عنہ کا کثرت رائے کو قبول نہ کرنا نہ صرف معقول اور مناسب تھا بلکہ ایسا نہ کرنا قومی مفادات کے لئے مضر ثابت ہوتا۔کہیں ایک جگہ بھی محقق آپ رضی اللہ عنہ کے اختلاف رائے میں آمریت کا شائبہ تک نہ پائے گا۔یہ تمام امور جماعت احمدیہ کے ریکارڈ میں موجود اور رسائل و جرائد میں شائع شدہ ہیں۔اور ہر دلچسپی رکھنے والے کو دعوتِ فکر و نظر دے رہے ہیں۔چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔:اول مجلس شوری میں یہ تجویز پیش ہوئی تھی کہ صوبائی امیر جمعہ کے روز اگر کہیں موجود ہوں اور وہاں کا امیر مقامی کوئی اور شخص ہو تو جمعہ کے پڑھانے کا اصل حق امیر مقامی کا ہو گا۔البتہ صوبائی (Provincial) امیر، مقامی (Local) امیر کو اطلاع دے کر حسب ضرورت جمعہ پڑھا سکے گا۔اس تجویز کے متعلق جب رائے شماری ہوئی تو اکثریت نے اس کے حق میں رائے دی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اکثریت کے اس فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ میں اکثریت کی رائے درست نہیں ہے میرے نزدیک جب تک یہ عہدے الگ الگ ہیں اس وقت تک یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ جہاں پراونشل (Provincial) امیر ہو وہاں اسے اپنے خیالات کے اظہار اور ان کی اشاعت کے لئے کوئی موقع حاصل ہونا چاہیے۔مجھے تو یہ ذریعہ حاصل ہے کہ اخبار ہے اور اخبار والے میری تقریرں اور خطبے نوٹ کر کے شائع کرتے اور جماعت تک پہنچاتے ہیں مگر صوبہ کی جماعتوں کے امرا کو یہ ذریعہ حاصل نہیں کہ ایک جگہ اپنے جن خیالات کا وہ اظہار کریں وہ سارے صوبہ کی جماعتوں تک پہنچ جائے اس لئے باوجود اس کے کہ اکثریت دوسری طرف گئی ہے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ اپنے صوبہ میں جہاں بھی پراونشل (Provincial) امیر ہو جمعہ کا خطبہ دینے کا حق اسے مقدم طور پر حاصل ہوگا۔اس کی موجودگی میں اس کی اجازت سے لوکل (Local) امیر یا کوئی اور شخص خطبہ پڑھا خطبہ پڑھا سکتا ہے۔ہاں جہاں پر پراونشل (Provincial) امیر موجود نہ ہو یا اس غرض کے لئے کوئی دوسرا امام مرکز سلسلہ کی طرف سے مقرر نہ ہو تو خطبہ دینے کا اوّل حق لوکل (Local) امیر کو حاصل ہو گا۔“ ثانياً: مجلس شوری میں یہ تجویز پیش تھی کہ کراچی اور لاہور اور راولپنڈی کو مقامی ضروریات کے لئے ان کے چندوں کا تیسرا حصہ بطور گرانٹ دیا جائے۔جماعت کے مالی حالات کے لحاظ سے یہ تجویز اپنی موجودہ صورت میں درست نہ تھی لیکن اس تجویز کو اپنے اختیارات کے تحت رڈ کرنے کی بجائے آپ رضی اللہ عنہ نے اس تجویز کے ناموزوں ہونے کے دلائل دیئے اور اس کے نقصان دہ پہلوؤں کی جماعت کے نمائندگان کے سامنے وضاحت فرمائی۔چنانچہ اس تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: چندوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر اس تجویز کو منظور کر لیا جائے تو قریباً دو لاکھ روپیہ بجٹ آمد سے کم ہو جاتا ہے۔ہمارا کل بجٹ بارہ لاکھ ننانوے ہزار کا ہے اور اگر یہ دو لاکھ روپیہ اس سے نکال دیا جائے تو آمد دس 493