مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 492 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 492

شوری بلائی ہی نہیں اور اس طرح آپ رضی اللہ عنہ نے جماعت کا ایک حق مار لیا (نعوذ باللہ)، جو غلط بات ہے۔اور پھر اس کا نتیجہ فوراً یہ نکلتا ہے کہ حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ 1914ء میں مسندِ خلافت پر بیٹھے اور پہلی مجلس شوری 1922 ء میں منعقد ہوئی۔اگر مجلس شوری کا قیام جماعت کا حق تسلیم کیا جائے تو 1914 ء سے 1922ء تک آپ رضی اللہ عنہ نے قوم کو اس کا حق نہیں دیا۔اور یہ بالکل غلط بات ہے ان کا حق تھا ہی نہیں۔اس لئے حق دینے یا نہ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔غرض جہاں تک مجلس شوریٰ کا سوال ہے اسے کس شکل میں بلایا جائے اس کی نمائندگی کا کیا طریق ہو۔انتخاب کس اصول پر ہو وغیرہ۔یہ تمام باتیں ایسی ہیں جن کا فیصلہ کرنا خلیفہ وقت کا کام ہے اور اس کے متعلق خلیفہ وقت مشورہ لیتا ہے۔وہ مشورہ کے بعد اکثریت کے حق میں فیصلہ کر رہا ہو یا اکثریت کے خلاف فیصلہ کر رہا ہو۔یہ علیحدہ بات ہے لیکن بہر حال وہ مشورہ لیتا ہے اور کام کرتا ہے۔“ ” رپورٹ مجلس مشاورت 1967 ، صفحہ 244 تا 247) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: خلیفہ کا طریق حکومت کیا ہو؟ خدا تعالیٰ نے اس کا فیصلہ کر دیا ہے۔تمہیں ضرورت نہیں کہ تم خلیفہ کے لئے قواعد اور شرائط تجویز کرو یا اس کے فرائض بتاؤ۔اللہ تعالیٰ نے جہاں اس کے اغراض و مقاصد بتائے ہیں قرآن مجید میں اس کے کام کا طریق بھی بتادیا ہے : وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ۔ایک مجلس شوری قائم کرو، ان سے مشورہ لے کر غور کرو پھر دعا کرو جس پر اللہ تعالیٰ تمہیں قائم کر دے اس پر قائم جاؤ۔خواہ وہ اس مجلس کے مشورہ کے خلاف بھی ہو۔تو خدا تعالیٰ مدد کرے گا۔“ ہو منصب خلافت - انوار العلوم جلد 2 صفحہ 56) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ نہیں کہ ووٹ لیے جائیں اور ان پر فیصلہ کیا جائے بلکہ جیسا اسلامی طریق ہے کہ مختلف خیالات معلوم کیے جائیں اور مختلف تجاویز کے پہلو معلوم ہوں تاکہ ان پر جو مفید باتیں معلوم ہوں وہ اختیار کر لیں۔اس زمانہ کے لحاظ سے یہ خیال پیدا ہونا کہ کیوں رائے نہ لیں اور ان پر فیصلہ ہو۔مگر ہمارے لیے دین نے یہی رکھا ہے کہ ایسا ہو : فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى الله مشورہ لو مگر جب ارادہ کر لو تو پھر اس بات کو کر لو۔یہ نہ ہو کہ لوگ کیا کہیں گے۔اور اسلام میں ایسا ہی ہو تا رہا ہے۔جب ایران پر حملہ کیا گیا تھا تو دشمن نے ایک پل کو توڑ دیا اور بہت سے مسلمان مارے گئے تھے۔سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ مسلمان تباہ ہو جائیں گے۔اگر جلد فوج نہ آئے گی تو عرب میں دشمن گھس آئیں گے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رائے طلب کی تو سب نے کہا خلیفہ کو خود جانا چاہیے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی پر خیال آیا اور پوچھا آپ کیوں چپ ہیں؟ کیا آپ اس رائے کے خلاف ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں خلاف ہوں۔پوچھا کیوں تو کہا اس لیے کہ خلیفہ کو جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہیے اس کا کام یہ ہے کہ لڑنے والوں کو مدد دے۔جو قوم ساری طاقت خرچ کر دے اور جسے مدد دینے کے لیے کوئی نہ رہے تو وہ تباہ ہو جاتی ہے۔اگر آپ کے جانے پر شکست ہو گئی تو پھر مسلمان کہیں نہ ٹھہر سکیں گے اور عرب پر دشمنوں کا قبضہ ہو جائے گا۔اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نہ گئے اور انہی کی بات مانی گئی۔تو مشورہ کی غرض ووٹ لینے نہیں بلکہ مفید تجاویز معلوم کرنا ہے۔پھر چاہے تھوڑے لوگوں کی اور اور چاہے ایک ہی کی بات مانی جائے۔پس صحابہ خاموشی رضی اللہ عنہم کا یہ طریق تھا اور یہی قرآن سے معلوم ہوتا ہے اور عارف کے لیے یہ کافی ہے۔“ 492