مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 464 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 464

تعالٰی نے نہ صرف قبول فرمایا بلکہ اس قسم کے تبادلہ خیالات کی رومن کیتھولک چرچ کو بھی دعوت دی اور لندن، روم، مغربی افریقہ اور ایشا کے دارالحکومتوں اور امریکہ میں بھی اس طرح کے اجلاس منعقد کرنے کی دعوت دی اس کانفرنس کی اتنی پیلیسٹی ہوئی کہ اندازاً 15 کروڑ افراد تک احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچا۔دو (ملخص حیات ناصر جلد 1 مرتبه محمود مجیب اصغر صفحه 405 و 406) ر صلیب کانفرنس کے انعقاد سے پہلے اور بعد میں مغربی میڈیا نے اس کو بہت اہمیت دی اور ان کے تمام بڑے بڑے اخبارات میں اس کانفرنس پر مختلف دانشوروں کے تبصرے شائع ہوئے۔مثلاً مڈلینڈ برطانیہ کے ہفتہ وار اخبار ”سنڈے مرکزی (Sunday Mercury) نے 11 جون 1978ء کی خصوصی اشاعت میں کانفرنس کی رُوداد شائع کی جو تصاویر سے مزین تھی۔صفحہ اوّل پر جلی عنوانات کے ساتھ اخبار نے جو بڑی خبر شائع کی اس کا ترجمہ درج ذیل ہے: گزشتہ اتور کے روز 4 جون 1978 ء کو کامن ویلتھ انسٹی ٹیوٹ لندن Commonwealth Institute) (London کے ایگزی بیشن ہال (Exhibition Hall) کی گیلریاں بھی سامعین سے بھری ہوئی تھیں کیونکہ اس روز مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے دنیا کے مختلف ممالک کے ڈیڑھ ہزار سے زیادہ افراد مسیح کی صلیبی موت سے نجات کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی اجلاس (حضرت) خلیفة اسبح الثالث (رحمہ اللہ تعالیٰ) کے خطاب سننے کیلئے وہاں کھنچے چلے آئے تھے۔69 سالہ خلیفہ مسیح حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے جو دنیا بھر میں پھیلی ہوئی جماعت احمدیہ کے ایک کروڑ افراد کے روحانی پیشوا ہیں ہال کے مرکزی اسٹیج سے کانفرنس سے خطاب فرمایا۔ہال جماعت کے ممتاز افراد سے تھا۔علاوہ ازیں گیمبیا، ماریشس، اور سیرالیون کے ہائی کمشنرز اور لائبریا کے سفیر موصوف بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔اپنے ایک گھنٹہ کے خطاب کے دوران خلیفہ امیج کو مسلسل پریس فوٹوگرافروں کے کیمروں کی فلیش لائٹوں اور فلڈ لائٹوں کی چکا چوند کا سامنا رہا۔ان کے دورہ برطانیہ کی مصروفیات پر مشتمل ایک دستاویزی فلم پر تیار کی جارہی ہے۔اس سہ روزہ کانفرنس میں انفرادی طور پر بہت سے عیسائیوں نے اور پادریوں نے بھی شرکت کی ان پادریوں میں ویسٹ منسٹر کیتھولک آرچ بشپ کارڈینل ہیوم کے ایک نمائندے اور پولینڈ کے کیتھولک چرج کے دو باضابطہ نمائندے بھی شامل تھے۔مؤخر الذکر دو نمائندے کا نفرنس کی کاروائی سننے کے لئے پولینڈ سے برطانیہ آئے تھے۔اپنے اختتامی خطاب میں خلیفہ اسیح نے فرمایا: اس کائنات کی بنیادی صداقت توحید باری تعالی ہے۔۔۔صرف اور صرف اسی کی ذات اس لائق ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تمام مخلوق اس کی عبادت کرے۔“ احمدیوں کا ایک بنیادی عقیدہ ان کے اس دعوی پر مشتمل ہے کہ مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے۔صلیب سے زندہ اترنے اور صحت یاب ہونے کے بعد اسرائیل کے گمشدہ قبائل کی تلاش میں وہ ہندوستان آئے اور طویل عمر وو پانے کے بعد وہیں انہوں نے وفات پائی۔ان کا مقبرہ کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں ہے۔کانفرنس کے دوسرے روز (3) جون 1978 ء ) کو کانفرنس میں شرکت کرنے والے چھ سو مندوبین نے متفقہ طور پر ایک قرار داد پاس کی جس میں انڈین گورنمنٹ سے احترام اور تقدس برقرار رکھتے ہوئے مقبرہ کے متعلق تحقیق کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔سب سے پہلے اس مقبرہ کی نشاندہی (حضرت) مرزا غلام احمد (علیہ السلام) نے کی تھی۔کانفرنس میں شرکت کے علاوہ خلیفتہ امیج جو یہاں اپنی حرم حضرت بیگم صاحبہ کے ساتھ تشریف لائے ہوئے 464