مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 463
نے ہنر ہولی نس ) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے متعلق کہا کہ یہ اس زمانہ کا لوتھر معلوم ہوتا ہے، بعض نے کہا ان کے سینہ میں آگ ہے ایک نے کہا یہ تمام پرچوں سے بہتر پر چہ تھا۔ایک جرمن پروفیسر نے جلسہ کے بعد سڑک پر چلتے ہوئے آگے بڑھ کر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت میں مبارکباد عرض کی اور کہا میرے پاس بعض بڑے بڑے انگریز بیٹھے کہہ رہے تھے: ” یہ نادر خیالات ہیں جو ہر روز سننے میں نہیں آتے۔“ مسٹرلین نے جو انڈیا آفس میں ایک بڑے عہدیدار تھے تسلیم کیا کہ خلیفہ مسیح ( حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالٰی عنہ) کا پرچہ سب سے اعلیٰ اور بہترین پرچہ تھا۔پریس نے بھی اس عظیم الشان لیکچر کی نمایاں خبریں شائع کیں اور اس کی عظمت کا اقرار کیا۔چنانچہ مانچسٹر گارڈین (Manchester Guardian) نے 24 ستمبر 1924ء کی اشاعت میں لکھا: ہے " اس کانفرنس میں ایک ہلچل ڈالنے والا واقعہ جو اس وقت ظاہر ہوا، وہ آج سہ پہر کو اسلام کے ایک نئے فرقہ کا ذکر تھا۔نئے فرقہ کا لفظ ہم نے آسانی کے لئے اختیار کیا ہے ورنہ یہ لوگ اس کو درست نہیں سمجھتے تھے، اس فرقہ کی بنا ان کے قول کے بموجب آج سے چونتیس پینتیس سال پہلے اس مسیح نے ڈالی جس کی پیشگوئی بائبل ا اور دوسری کتابوں میں ہے۔اس سلسلہ کا یہ دعویٰ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے صریح الہام کے ماتحت اس سلسلہ کی بنیاد اس لئے رکھی ہے کہ وہ نوع انسان کو اسلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ تک پہنچائے۔ایک ہندوستان کے باشندے نے جو سفید دستار باندھے ہوئے ہے اور جس کا چہرہ نورانی اور خوش کن ہے اور سیاہ داڑھی رکھتا اور جس کا لقب ہنر ہولی نس خلیفہ اسیح الحاج میرزا بشیر الدین محمود احمد یا اختصاراً خلیفہ اسیح ہے، مندرجہ بالا تحدی اپنے مضمون میں پیش کی جس کا عنوان ہے ”اسلام میں احمدیہ تحریک آپ کے ایک اور شاگرد نے جو سرخ رومی ٹوپی ہوئے تھا، آپ کا پرچہ کمال خوبی کے ساتھ پڑھا آپ نے اپنے مضمون کو جس میں زیادہ تر اسلام کی حمایت اور تائید تھی، ایک پر جوش اپیل کے ساتھ ختم کیا جس میں۔۔۔حاضرین کو اس نئے مسیح اور اس نئی تعلیم کے قبول کرنے کے لئے مدعو کیا۔اس بات کا بیان کر دینا بھی ضروری ہے کہ اس کر دینا بھی ضروری ہے کہ اس پرچہ کے بعد جس قدر تحسین و خوشنودی کا چیئرز کے ذریعہ اظہار کیا گیا اس سے پہلے کسی پرچہ پر ایسا نہیں کیا گیا تھا۔“ کسر صلیب کانفرنس : الفضل 8 نومبر 1924 صفحه 2 و تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 451 تا 454) 2، 3، 4 جون 1978ء کو جماعت احمدیہ نے مسیح علیہ السلام کی صلیب سے نجات کے موضوع پر لندن میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کیا حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کانفرنس میں شرکت کے لئے لندن تشریف لے گئے۔اس کانفرنس کا وہاں بڑا چرچا ہو رہا تھا اور چرچ کی طرف سے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا جا رہا تھا انہوں نے دھمکیوں کے خطوط بھی لکھے لیکن حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے قرآنی ہدایت فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي (البقرہ:151) کے تحت دھمکیوں کی پرواہ کئے بغیر کانفرنس میں شمولیت اختیار فرمائی اور اس میں معرکتہ الآرا خطاب فرمایا۔دنیا کے بعض اور نامور مفکرین (جو مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھتے تھے ) نے بھی اپنے تحقیقی مقالے پڑھے جس سے برطانوی چرچ میں ہلچل مچ گئی۔برٹش کونسل آف چرچز کی طرف سے ایک پریس نوٹ کے ذریعے تبادلہ خیالات کی دعوت دی گئی جسے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ 463