مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 462 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 462

یہ دیکھیں کہ کس مذہب کو قبول کرنا چاہئے اس کے بعد میں اپنے مرید چودھری ظفر اللہ خان صاحب بار ایٹ لا سے سے کہتا ہوں کہ میرا مضمون سنائیں۔میں ایسے طور پر اپنی زبان میں بھی پرچہ پڑھنے کا عادی نہیں ہوں کیونکہ میں ہمیشہ زبانی تقریریں کرتا ہوں اور چھ چھ گھنٹے بولتا ہوں۔مذہب کا معاملہ اسی دنیا تک ختم نہیں ہو جاتا بلکہ وہ مرنے کے بعد دوسرے جہان تک چلتا ہے اور انسان کی دائمی راحت مذہب سے وابستہ ہے اس لئے آپ اس پر غور کریں اور سوچیں اور مجھے امید ہے کہ آپ توجہ سے سنیں گے۔اس کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت چودھری صاحب رضی اللہ عنہ کے کان میں کہا کہ: گھبرانا نہیں میں دعا کروں گا۔“ چنانچہ مکرم چودھری صاحب کھڑے ہوئے اور ایک گھنٹہ میں نہایت بلند، مؤثر اور نہایت پر شوکت لہجہ میں یہ مضمون پڑھ کر سنایا۔چودھری صاحب ایک دن پہلے حلق کی خراش کی وجہ سے بیمار تھے مگر اللہ تعالیٰ نے روح القدس سے ان کی تائید فرمائی۔حضرت امیر المؤمنين خليفة أسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مضمون اور مکرم چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی زبان نے (جسے حضور نے ایک مجمع میں میری زبان کہا تھا حاضرین پر وجد کی کیفیت طاری کر دی۔۔(الفضل 8 نومبر 1924 صفحه 8 و الفضل 21اکتوبر 1924 صفحه 5) ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سب حاضرین گویا احمدی ہیں تمام لوگ ایک محویت کے عالم میں اخیر تک بیٹھے رہے جب مضمون میں اسلام کے متعلق کوئی ایسی بات بیان کی جاتی جو ان کیلئے نئی ہوتی تو کئی لوگ خوشی سے اُچھل پڑتے۔غلامی، سود، اور تعدد ازدواج وغیرہ مسائل کو نہایت واضح طور پر بیان کیا گیا تھا۔اس حصہ کو بھی نہ صرف مردوں نے بلکہ عورتوں نے بھی نہایت شوق اور خوشی سے سنا ایک گھنٹہ بعد لیکچر ختم ہوا تو لوگوں نے اس گرم جوشی کے ساتھ اور اتنی دیر تک تالیاں بجائیں کہ پریذیڈنٹ (سر تھیوڈر مارین ) کو اپنے ریمارکس کے لئے چند منٹ انتظار کرنا پڑا۔پریذیڈنٹ (President) نے کہا: مجھے زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں، مضمون کی خوبی اور لطافت کا اندازہ خود مضمون نے کرا لیا ہے میں اپنی طرف سے اور حاضرین کی طرف سے مضمون کی خوبی ترتیب، خوبی خیالات اور اعلیٰ درجہ کے طریق استدلال کیلئے حضرت خلیفہ اُسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کا شکریہ ادا کرتا ہوں حاضرین کے چہرے زبان حال سے میرے اس کہنے کے ساتھ متفق ہیں اور میں یقین کرتا ہوں کہ وہ اقرار کرتے ہیں کہ میں ان کی طرف سے شکریہ ادا کرنے میں حق پر ہوں اور ان کی ترجمانی کا حق ادا کر رہا ہوں۔پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف مخاطب ہو کر کہا: میں آپ کو لیکچر کی کامیابی پر مبارکباد عرض کرتا ہوں۔آپ کا مضمون بہترین مضمون تھا جو آج پڑھے گئے۔کیا آپ کا خیال نہیں ہے کہ اس کامیابی کے لئے جو آج آپ کو حاصل ہوئی ہے آپ یہاں تشریف لائے۔اجلاس ختم ہونے پر سر تھیوڈرمالین دیر تک سٹیج پر کھڑے کھڑے مختلف باتیں کرتے رہے اور بار بار مضمون کی تعریف کرتے رہے۔مضمون کے پڑھنے پر لوگوں نے مکرم چودھری ظفر اللہ خان صاحب کو بھی مبارکباد دی۔چنانچہ (فری چرچ کے ہیڈ ) ڈاکٹر والٹر واش (Dr۔Walter Walsh) نے جو خود فصیح البیان لیکچرار تھے, اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا: ”میں نہایت خوش قسمت ہوں کہ مجھے یہ لیکچر سننے کا موقع ملا۔قانون کے ایک پروفیسر نے بیان کیا کہ جب وہ مضمون سن رہا تھا تو یہ محسوس ہو رہا تھا کہ یہ دن گویا ایک نئے دور کا آغاز کرنے والا ہے۔پھر کہا کہ اگر آپ لوگ کسی اور طریق سے ہزاروں ہزار روپیہ بھی خرچ کرتے تو اتنی زبردست کامیابی حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ایک پادری منش نے کہا: ”تین سال ہوئے مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ حضرت مسیح تیرہ حواریوں کے ساتھ یہاں تشریف لائے ہیں اور اب میں دیکھتا ہوں کہ یہ خواب پورا ہو گیا ہے۔“ مس شارپلز کانفرنس کی سیکرٹری) نے کہا کہ لوگ اس مضمون کی بہت تعریف کرتے ہیں اور خود ہی بتایا کہ ایک صاحب 462