مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 45 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 45

(ترجمہ: حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظر میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مقام: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی عربی تصنیف سر الخلافہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں بہت ہی شان دار الفاظ میں خراج تحسین پیش فرمایا ہے اس کا ترجمہ احباب کی خدمت میں پیش ہے: صدیق رضی اللہ عنہ اور فاروق رضی اللہ عنہ خدا کے عالی مرتبہ امیر قافلہ ہیں، وہ بلند پہاڑ ہیں، انہوں نے شہروں اور بیابان نشینوں کو حق کی طرف بلایا یہاں تک کہ ان کی دعوت اقصائے بلاد تک پہنچی، ان کی خلافت اثمار اسلام سے گرانبار اور خوشبوئے کامرانی و کامیابی معطر و ممسوح تھی۔حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے ابتدائی عہد میں اسلام گوناگوں مصائب و آلام میں مبتلا تھا، قریب تھا کہ غارت گر افواج اس بے سامان قافلہ حملہ آور ہوں اور المدد المدد کا شور بلند ہو لیکن صدیق رضی اللہ عنہ کے صدق کو دیکھتے ہوئے رب جلیل مدد کو آیا اور اپنے متاع عزیز کو گہرے کنوئیں سے نکال لیا۔“ ޏ پر ستر الخلافه روحانی خزائن جلد نمبر 8 ترجمه از رساله خالد خلافت نمبر مئی 1960ء۔ص23) اشاعت اسلام: مولانا شبلی نعمانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھتے ہیں: اشاعت اسلام کے یہ معنی ہیں کہ تمام دنیا کو اسلام کی دعوت دی جائے اور لوگوں کو اسلام کے اصول اور مسائل سمجھا کر اسلام کی طرف راغب کیا جائے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ جس ملک میں فوجیں بھیجتے تھے تاکید کرتے تھے کہ پہلے ان لوگوں کو اسلام کی ترغیب دلائی جائے اور اسلام کے اصول سمجھائے جائیں۔چنانچہ فاتح ایران سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو جو خط لکھا اس میں یہ الفاظ تھے: وَقَدْ كُنْتُ اَمَرُ ُتكَ اَنْ تَدْعُوا مَنْ لَقِيْتَهُ إِلَى الْإِسْلَامِ قَبْلَ الْقِتَالِ قاضی ابو يوسف احب ب نے لکھا ہے کہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب ان کے پاس کوئی فوج مہیا ہوتی تھی تو ان پر ایسا افسر مقرر کرتے تھے جو صاحب علم اور صاحب فقہ ہوتا تھا یہ ظاہر ہے کہ فوجی افسروں کے لیے علم و فقہ کی ضرورت اسی تبلیغ اسلام کی ضرورت سے تھی۔شام و عراق کی فتوحات میں تم نے پڑھا ہوگا کہ ایرانیوں اور عیسائیوں کے پاس جو اسلامی سفارتیں گئیں انہوں نے کس خوبی اور صفائی سے اسلام کے اصول و عقائد ان کے سامنے بیان کئے۔صاح اشاعت اسلام کی بڑی تدبیر یہ ہے کہ غیر قوموں کو اسلام کا جو نمونہ دکھلایا جائے وہ ایسا ہو کہ خود بخود لوگوں کے دل اسلام کی طرف کھینچ آئیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں نہایت کثرت سے اسلام پھیلا اور اس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے اپنی تربیت اور ارشاد سے تمام مسلمانوں کو اسلام کا اصلی نمونہ بنا دیا تھا۔اسلامی فوجیں جس ملک میں جاتی تھیں لوگوں کو خواہ مخواہ ان کے دیکھنے کا شوق پیدا ہوتا تھا کیونکہ چند بادیہ نشینوں کا دنیا کی تسخیر کو اُٹھنا حیرت اور استعجاب سے خالی نہ تھا اس طرح جب لوگوں کو ان کے دیکھنے اور ان ملنے جلنے کا اتفاق ہوتا تھا تو ایک ایک مسلمان سچائی سادگی اور پاکیزگی جوش اور اخلاص کی تصویر نظر آتا تھا۔یہ چیزیں خود بخود لوگوں کے دل کھینچتی تھیں اور اسلام ان میں گھر کر جاتا تھا۔“ سے 45