مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 44
44 کہنے لگے کہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جلدی ملا دو ! جس وقت حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے یہ کلمہ سنا تو آپ رضی اللہ عنہ باہر نکل آئے اور کہا کہ اے عمر (رضی اللہ عنہ )! میں تم کو بشارت دیتا ہوں کہ جمعرات کی شب میں ہمارے آقا و مولا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ دعا مانگی تھی کہ الہی اسلام کو عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب یا عمر بن ہشام کے مسلمان ہونے سے غلبہ اور قوت عطا فرما۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کوہ ، صفا کے متصل ایک مکان میں تشریف فرما تھے، حضرت خباب رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے ارادے سے روانہ ہوئے جس مکان میں اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اس کے دروازے پر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ، طلحہ رضی اللہ عنہ اور چند دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بطور نگران بیٹھے ہوئے تھے۔حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر کہا عمر رضی اللہ عنہ آرہے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کو ان کی خیریت منظور ہے تب تو یہ میرے ہاتھ سے بچ جائیں گے اور اگر ان کا ارادہ کچھ اور ہے تو پھر ان کا قتل کرنا بہت آسان ہے۔اسی اثنا میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پر ان تمام حالات پر مشتمل وحی نازل ہو چکی تھی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکان سے باہر تشریف لا کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دامن اور ان کی تلوار پکڑ لی اور فرمایا: اے عمر ! کیا یہ فساد تم اس وقت تک برپا کرتے رہو گے جب تک تم پر بھی وہ خواری اور ذلت، اللہ کی طرف سے مسلط نہ ہو جائے جیسے ولید بن مغیرہ کے لیے ہوئی؟ یہ سنتے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَإِنَّكَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ “ 66 ( تاريخ الخلفاء - صفحه 268 تا 270 ترجمہ: علامہ شمس بریلوی) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مقام: حَدَّثَنَا يَحْيَى ابْنُ قَزَعَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ابْنُ سَعْدِ عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ كَانَ فِيْمَا قَبْلَكُمْ مِّنَ الْأُمَمِ مُحَدٌ ثُونَ فَإِنْ يَكُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَإِنَّهُ عُمَرَ۔زَادَ زَكَرِيَّا ابْنُ أَبِى زَائِدَةَ عَنْ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ كَانَ فِيْمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ رِجَالٌ يُكَلَّمُونَ مَنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونُوا أَنْبِيَاءَ فَإِنْ يَّكُنُ مِّنْ أُمَّتِى مِنْهُمُ اَحَدٌ فَعُمَرَ۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ مِنْ نَّبِيِّ وَّلَا مُحَدَّثِ۔( صحیح بخاری پاره نمبر 14 کتاب المناقب باب مناقب مہاجرین اور ان کی فضیلت ) یحیی بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا، انہوں نے اپنے باپ سے ان کے باپ نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے جو اُمتیں تھیں ان میں سے محدّث (بعض کو کثرت سے الہام وکشوف ہوں) ہوا کرتے تھے اور اگر میری امت میں سے اگر کوئی ایسا ہے تو وہ عمرؓ ہیں۔زکریا بن ابی زائدہ نے سعد سے، سعد نے ابو سلمہ سے، ابو سلمہ نے ابوہریرہ سے روایت کرتے ہوئے اتنا بڑھایا کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے جو بنی اسرائیل ہوئے ہیں ان میں ایسے آدمی ہو چکے ہیں جن سے اللہ کلام کیا کرتا تھا بغیر اس کے کہ وہ نبی ہوتے ، اگر میری اُمت میں بھی ان میں سے کوئی ایسا ہے تو وہ عمر ہیں، ابن عباس نے سورۃ الحج کی اس آیت کو یوں پڑھا ہے۔وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَّلَا نَبِي وَّلَا مُحَدَّثِ -