مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 46
(الفاروق - صفحہ 353 و 354۔مصنفہ: علامہ شبلی نعمانی) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور مبارک میں ہونے والی اشاعت اسلام کے بارے میں سیر الصحابہ میں لکھا ہے کہ: قرآن مجید جو اساس اسلام ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اصرار سے کتابی صورت میں عہد صدیقی میں مرتب کیا گیا تھا۔اس کے بعد انہوں نے اپنے عہد میں اس کے درس و تدریس کا رواج دیا معلمین اور حفاظ اور مؤذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں، حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو الدردا رضی اللہ عنہ کو جو حفاظ قرآن اور صحابہ کبار میں سے تھے، قرآن مجید کی تعلیم دینے کے لئے ملک شام میں روانہ کیا، قرآن مجید کو صحت کے ساتھ پڑھنے اور پڑھانے کے لیے تاکیدی احکام روانہ کئے۔ابن الانباری کی روایت کے مطابق ایک حکم نامہ کے الفاظ یہ ہیں: تُعَلِمُوا أَعْرَابَ الْقُرْآنَ كَمَا تُعَلِّمُونَ حـفـظـة۔غرض حضرت عمرؓ کی مساعی جمیلہ سے قرآن کی تعلیم ایسی عام ہو گئی تھی کہ ناظرہ خوانوں کا تو شمار ہی نہیں، حافظوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی تھی۔حضرت ابو موسیٰ اشعری نے ایک خط کے جواب میں لکھا تھا که صرف میری فوج میں تین سو حافظ ہیں۔“ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم: (سیر الصحابہ جلد 1 - صفحه 147) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے عاشق تھے۔چنانچہ الصحابہ میں لکھا ہے۔”ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ نبوت میں عرض کیا کہ اپنی جان کے سوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔ارشاد ہوا: عمر ! میری محبت اپنی جان سے بھی زیادہ ہونی چاہئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، اب حضور اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔آپ ( یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) جمالِ نبوت کے سچے شیدائی تھے، ان کو اس راہ میں جان و مال، اولاد اور عزیز و اقارب کی قربانی سے بھی دریغ نہ تھا۔عاصی بن ہشام جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ماموں تھا، معرکۂ بدر میں خود ان کے ہاتھ سے مارا گیا۔“ حفاظت منصب خلافت: (سیر الصحابہ جلد 1 صفحہ 158) منصب خلافت کی حفاظت کی خاطر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نہایت درجہ حساسیت سے کام لیا۔چنانچہ اس ضمن میں محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں: ” بہت ہی قلیل مدت کے سوچ بچار کے بعد فوراً خلافت کو چھ آدمیوں: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان، حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب، حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بن عوف اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی مجلس مشاورت پر منحصر کر دیا۔ان حضرات کی خلافت کے سلسلہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک قول ماثور ہے کہ: ”میں نے ان لوگوں سے زیادہ کسی کو خلافت کا حقدار نہیں پایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تا حین حیات ان سے خوش رہے۔ان میں سے جس کسی کو بھی خلیفہ بنایا جائے وہی میرے بعد خلیفہ ہو گا۔“ 46