مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 41
”صاحبو ! مجھے آپ کے محاسن کا انکار نہیں لیکن درحقیقت تمام عرب قریش کے سوا کسی کی حکومت تسلیم ہی نہیں کر سکتا پھر مہاجرین اپنے تقدم اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خاندانی تعلقات کے باعث نسبتاً آپ سے زیادہ استحقاق رکھتے ہیں۔یہ دیکھو ابو عبیدہ (رضی اللہ عنہ) بن الجراح اور عمر (رضی اللہ عنہ ) بن خطاب موجود ہیں ان میں سے جس کے ہاتھ پر چاہو بیعت کر لو۔“ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پیش دستی کر کے خود حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا اور کہا: نہیں بلکہ ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں کیونکہ آپ ہمارے سردار اور ہم لوگوں میں سب سے بہتر ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو سب سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔“ چنانچہ اس مجمع میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی با اثر بزرگ اور معمر نہ تھا اس لئے اس انتخاب کو سب نے زیادہ استحسان کی نظر سے دیکھا اور تمام خلقت بیعت کے لیے ٹوٹ پڑی اس طرح یہ اٹھتا ہوا طوفان دفعتاً رُک گیا اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین میں مشغول ہوئے۔“ کارنامے (سیر اصحابہ جلد اول صفحہ 40 تا 41) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کارنامے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے خلیفۃ الرسول منتخب ہونے کے بعد سب سے اہم کام احکام شریعت کی پابندی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جاری کردہ احکامات پر عمل درآمد تھا۔چنانچہ اس سلسلہ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی مساعی قابل ستائش ہیں۔”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب بعض قبائل عرب نے زکوۃ دینے سے انکا ر کر دیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کے خلاف جنگ کرنے کے لیے تیار ہو گئے اس وقت حالت ایسی نازک تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے انسان نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے نرمی کرنی چاہئے مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ابو قحافہ کے بیٹے کی کیا طاقت ہے کہ وہ اس حکم کو منسوخ کر دے۔جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اونٹ کا گھٹنا باندھنے کی ایک رسی بھی زکوۃ میں دیا کرتے تھے تو میں رسی بھی ان سے لے کر رہوں گا اور اس وقت تک دم نہیں لوں گا جب تک وہ زکوۃ ادا نہیں کرتے۔(بخاری کتاب الزکوۃ) اگر تم اس معاملہ میں میرا ساتھ نہیں دے سکتے تو بے شک نہ دو میں اکیلا ہی ان سے مقابلہ کروں گا۔“ ( تفسیر کبیر جلد 8 صفحہ 108 تا109) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے قریب ایک لشکر رومی علاقہ پر حملہ کرنے کے لئے تیار کیا تھا اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو اس کا افسر مقرر کیا تھا۔یہ لشکر ابھی روانہ نہیں ہوا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر جب عرب مرتد ہو گیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوچا کہ اگر ایسی بغاوت کے وقت اسامہ رضی اللہ عنہ کا لشکر ابھی رومی علاقہ پر حملہ کرنے کے لیے بھیج دیا گیا تو پیچھے صرف بوڑھے مرد اور بچے اور عورتیں رہ جائیں گی اور مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں رہے گا۔چنانچہ 41 1=1