مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 42
انہوں نے تجویز کی کہ اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک وفد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جائے اور اُن سے درخواست کرے کہ وہ اس لشکر کو بغاوت کے فرو ہونے تک روک لیں۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دوسرے بڑے بڑے صحابہ رضی اللہ عنہم آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے درخواست پیش کی۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے نہایت غصہ سے اس وفد کو جواب دیا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ابو قحافہ کا بیٹا پہلا یہ کام کرے کہ جس لشکر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کرنے کا حکم دیا تھا اسے روک لے؟ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا! اگر دشمن کی فوجیں مدینہ میں گھس آئیں اور کتے مسلمانوں کی لاشیں گھسیٹتے پھریں تب بھی میں اس لشکر کو نہیں روکوں گا جس کو روانہ کرنے کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا۔“ اللہ ( سیر روحانی مجموعہ تقاریر حضرت خلیفتہ اہسیح الثانی رضی اللہ عنہ۔صفحہ 491) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات: ”حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت عمر 63 سال تھی اور آپ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے 2 سال 2 ماہ بعد 13 ہجری کو اپنے خالق حقیقی کے حضور حاضر ہوئے۔چنانچہ آپ رضی عنہ کو اپنے آقا کی مصاحبت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں دفن کیا گیا۔آپ رضی اللہ عنہ کی بیماری اور وفات کے متعلق آتا ہے کہ: آپ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ اور بیٹے عبدالرحمن سے مروی ہے کہ مرض الموت کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ سخت سردیوں کے دنوں میں وہ ٹھنڈے سے نہا لیے جس سے انہیں بخار چڑھ آیا اور پندرہ روز بخار میں مبتلا ہونے کے بعد وفات پا گئے۔اس دوران (یعنی بیماری کے ایام میں ان کے حکم سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے۔“ ( حضرت ابو بکر صدیق صفحہ 444 مصنفہ محمد حسین ہیکل نسب نامہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ”حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ یہ ہے: عمر بن الخطاب بن فضیل بن عبدالعزی بن ریاح بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی۔“ ( تذكرة الخلفا صفحه 128) سیر الصحابہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھا ہے عدی کے دوسرے بھائی مرہ تھے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اجداد میں سے ہیں۔اس لحاظ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا سلسلہ آٹھویں پشت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر مل جاتا ہے۔“ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام: (ملخص از تاریخ الخلفاء صفحه 265) قریش کے سر بر آوردہ اشخاص میں ابو جہل اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی میں سب سے زیادہ سرگرم تھے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ ان دونوں 42