مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 40 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 40

بات معلوم کر لی وہی درست تھی کہ یہ تمثیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے متعلق ہے اور یہ کہ آپ ہی وہ شخص ہیں جن کو اختیار دیا گیا تھا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے پاس جانے کو پسند فرمایا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا رونا برمحل تھا۔جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بے تابی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ کی تسلی کے لئے فرمایا: ابو بکر ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے سبقت قدمی کرتے ہوئے اپنے مال اور اپنی جان سے میری خدمت کی ہے اور اپنی قربانی کی وجہ سے یہ مجھے اتنے محبوب ہیں کہ اگر اللہ کے سوا کسی کو محبت کا انتہائی مقام دینا جائز ہوتا تو میں ان کو دیتا مگر اب بھی یہ میرے دوست اور صحابی ہیں اور اسلامی رشتہ اور اسلام کی پیدا کردہ محبت ہمیں ملائے ہوئے ہے۔پھر فرمایا کہ میں حکم دیتا ہوں کہ آج سے سب لوگوں کی کھڑکیاں جو مسجد میں کھلتی ہیں بند کر دی جائیں سوائے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی کھڑکی کے اور اس طرح کے عشق کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے داد دی کیونکہ یہ عشق کامل ہی تھاجس نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بتا دیا کہ اس فتح نصرت کی خبر کے پیچھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے اور تبھی رضی اللہ عنہ نے بے اختیار ہو کر کہ دیا: فَدَيْناكَ بِأَنْفُسِنَا وَاَمْوَالِنَا وَابَآئِنَا وَاَوْلَا دِنَا کہ اے کاش ہماری اور ہمارے عزیزوں کی جانوں کو قبول کر لیا جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں رہیں۔“ ( تفسیر کبیر جلد نمبر 10 - صفحہ 467 یا 468) آر حفاظت منصب خلافت کتاب سیر الصحابہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے واقعات کے بیان میں لکھا ہے کہ: " رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر مشہور ہوتے ہی منافقین کی سازش سے مدینہ میں خلافت کا فتنہ کھڑا ہوا اور انصار نے سقیفہ بنی ساعدہ میں مجتمع ہو کر خلافت کی بحث چھیڑ دی۔مہاجرین کو خبر ہوئی تو وہ بھی مجتمع ہوئے اور معاملہ اس حد تک پہنچ گیا کہ اگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو وقت پر اطلاع نہ ہو جاتی تو مہاجرین اور انصار جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھائی بھائی کی طرح رہتے تھے باہم دست و گریبان ہو جاتے اور اس طرح اسلام کا چراغ ہمیشہ کے لیے گل ہو جاتا لیکن خدا کو تو حید کی روشنی سے تمام عالم کو منور کرنا تھا اس لیے آسمان اسلام پر ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما جیسے مہر و ماه پیدا کر دیئے تھے جنہوں نے اپنی عقل و سیاست کی روشنی سے اُفق اسلام کی ظلمت اور تاریکیوں کو کافور کر دیا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لئے ہوئے سقیفہ بنی ساعدہ پہنچے۔انصار نے دعوی کیا کہ ایک امیر ہمارا ہو اور ایک تمھارا۔ظاہر ہے کہ اس دو عملی کا نتیجہ کیا ہوتا؟ ممکن تھا کہ مسندِ خلافت مستقل طور پر انصار کے سپرد کر دی جاتی لیکن دقت یہ تھی کہ قبائل عرب خصوصاً قریش ان کے سامنے گردنِ اطاعت خم نہیں کر سکتے تھے۔پھر انصار میں بھی دو گروہ تھے اوس اور خزرج اور ان میں باہم اتفاق نہ تھا۔غرض ان وقتوں کو پیش نظر رکھ کر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اُمرا ہماری جماعت سے ہوں اور وزرا تمہاری جماعت میں سے اس پر حضرت خباب رضی اللہ عنہ بن المنذر انصاری رضی اللہ عنہ بول اٹھے، نہیں! خدا کی قسم نہیں! ایک امیر ہمارا ہو اور ایک تمہارا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ جوش و خروش دیکھا تو نرمی و آشتی کے ساتھ انصار کے فضائل و محاسن کا اعتراف کر کے فرمایا: 40