مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 402 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 402

کے خطبہ میں انہیں کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا منشا ہے کہ ہم یہ رقم خرچ کریں اور ہسپتالوں اور سکولوں کے لئے ڈاکٹر اور ٹیچر چاہئیں وہاں مہیا کریں۔۔۔۔۔۔مجھے یہ خوف نہیں ہے کہ یہ رقم آئے گی یا نہیں یا آئے گی تو کیسے آئے گی؟ یہ مجھے یقین ہے کہ ضرور آئے گی اور نہ یہ خوف ہے کہ کام کرنے کے لئے آدمی ملیں گے یا نہیں ملیں گے۔یہ ضرور ملیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ کام کرو۔خدا کہتا ہے تو یہ اس کا کام ہے لیکن جس چیز کی مجھے فکر ہے وہ آپ کو بھی فکر کرنی چاہئے وہ یہ ہے کہ محض خدا کے حضور قربانی دے دینا کسی کام نہیں آتا جب تک اللہ تعالیٰ اس قربانی کو قبول نہ کر لے۔“ نصرت جہاں سکیم کے ثمرات: (حیات ناصر جلد 1۔صفحہ 527 تا530) ہے۔حضرت خلیفة أمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے دل میں مغربی افریقن ممالک کی خدمت کے لئے خرچ کر نے کا جو القاء گیمبیا کے مقام پر ہوا اور جو منصوبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کو سمجھایا اس کا نام حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شریک حیات سیدہ نصرت جہاں بیگم کے نام پر نصرت جہاں آگے بڑھو منصوبہ“ رکھا حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ”میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہو گی اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے۔یہ تفاول کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہانوں کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی اس کی پیشگوئی مخفی ہوتی ہے۔“ غرض یہ وہ منصوبہ ہے جو سارے جہان میں اسلام کی نصرت کا باعث ہو گا اس لئے حضور (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس سکیم کے لئے حضرت نصرت جہاں بیگم کے لخت جگر اور اپنے مقدس والد اور پیش رو خلیفہ کی خلافت کی مدت کے برابر رقم کی خواہش فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے حضور (حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ) کی خواہش کو فرمایا۔چنانچہ حضور (حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: نصرت جہاں ریزرو فنڈ کے وقت بہت سے دوستوں کا یہ خیال تھا کہ شاید میری یہ خواہش پوری نہ ہو ہو سکے گی کہ حضرت مصلح موعودؓ کی خلافت کے جتنے سال ہیں اتنے لاکھ رویے جمع ہو جائیں گے مگر جماعت نے اس فنڈ میں بڑی قربانی دی چنانچہ میری خواہش تو 51 لاکھ روپے کی تھی مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے پچھلے سالوں میں قریباً 53 لاکھ روپے جمع ہو چکے ہیں۔فالحمد للہ علی ذلک ثمرات کی ایک اور جھلک: 66 نصرت جہاں سکیم کا اعلان اور چند عمائدین کی آرا پورا (حیات ناصر جلد 1۔صفحہ 533 و 534) مغربی افریقہ کے عمائدین کی جماعت کے بارے میں جو رائے قائم ہو چکی ہیں ان کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔صدر جمہوریہ سیرالیون(Sierra Leone ): صدر جمہوریہ سیرا لیون ڈاکٹر سٹیونس نے 2۔دسمبر 1971ء کو احمد یہ سیکنڈری سکول بو کے معائنہ کے وقت تقریر میں خطاب 402