مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 394
7۔ماہرین علوم پیدا کر نے کی تحریک: اس سلسلہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے آپ کو روحانی لحاظ سے مالدار بنانے کی کوشش کرو، تم میں سینکڑوں فقیہ ہونے چاہئیں، تم میں سینکڑوں محدث ہونے چاہئیں، تم میں سینکڑوں مفسر ہونے چاہئیں، تم میں سینکڑوں علم کلام کے ماہر ہونے چاہئیں، تم میں سینکڑوں علم اخلاق کے ماہر ہونے چاہئیں، تم میں سینکڑوں علم تصوف کے ماہر ہونے چاہئیں، تم میں سینکڑوں منطق اور فلسفہ اور فقہ اور لغت کے ماہر ہونے چاہئیں تاکہ جب ان سینکڑوں میں سے کوئی شخص فوت ہو جائے تو تمہارے پاس ہر علم اور ہرفن کے 499 عالم موجود ہوں۔۔۔۔۔ہمارے لیے یہ خطرہ کی بات نہیں ہے کہ حضرت خلیفہ اول بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا مولوی عبدالکریم صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا مولوی برہان الدین صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا حافظ روشن علی صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا قاضی امیرحسین صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا میر محمد اسحاق صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے بلکہ ہمارے لیے خطرہ کی بات یہ ہے کہ جماعت کسی وقت بحیثیت جماعت مر جائے اور ایک عالم کی جگہ ہمیں اپنی جماعت میں دکھائی نہ دے۔“ رپورٹ مجلس مشاورت 1944ء - صفحہ 174 تا178) 8- حفظ قرآن و تبلیغ کی تحریک حفظ قرآن کی طرف حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو خاص توجہ تھی اس سلسلہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے متعدد تجاویز جاری فرمائیں اور جماعت کو اس سعادت سے بہرہ اندوز ہونے کی تلقین فرمائی۔( الفضل 26 جولائی 1944 ء) دیوانہ وار تبلیغ کی تحریک فرماتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”دنیا میں تبلیغ کرنے کے لیے ہمیں ہزاروں مبلغوں کی ضرورت ہے مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مبلغ کہاں سے آئیں اور ان کے اخراجات کون برداشت کرے؟ میں نے بہت سوچا ہے مگر بڑے غور وفکر کے بعد میں سوائے اس کے اور کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا کہ جب تک وہی طریق اختیار نہیں کیا جائے گا جو پہلے زمانوں میں استعمال کیا گیا تھا۔اس وقت تک ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔حضرت مسیح ناصری نے اپنے حواریوں سے کہا کہ تم دنیا میں نکل جاؤ اور تبلیغ کرو اور جب رات کا وقت آئے تو جس بستی میں تمہیں ٹھہرنا پڑے اس بستی میں رہنے والوں سے کھانا کھاؤ اور پھر آگے چل دو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بڑی حکمت سے یہ بات اپنی اُمت کو سکھائی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بستی پر باہر سے آنے والے کی مہمان نوازی تین دن فرض ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کے طریق کی طرف ہی اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے اگر تم کسی بستی سے تین دن کھانا کھاتے ہو تو یہ بھیک نہیں ہاں اگر تین دن سے زائد ٹھہر کر تم ان سے کھانا مانگتے ہو تو یہ بھیک ہو گی۔اگر ہماری جماعت کے دوست بھی اسی طرح کریں کہ وہ گھروں سے تبلیغ کے لئے نکل کھڑیں ہوں ایک ایک گاؤں اور ایک ایک بستی اور ایک ایک شہر میں تین تین دن ٹھہرتے جائیں اور تبلیغ کرتے جائیں۔اگر کسی گاؤں والے لڑیں تو جیسے حضرت مسیح ناصری نے کہا تھا وہ اپنے پاؤں سے خاک 394