مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 393
نے جماعت کے ایسی تربیت فرمائی کہ چندوں کی ادائیگی میں بشاشت و رغبت اور مسابقت کے جو نمونے یہاں نظر آتے ہیں ان کی مثال آج کی دنیا میں اور کہیں نہیں مل سکتی۔اس سلسلہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے وقف جائیداد کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا: " ہم میں سے کچھ لوگ جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے اپنی جائیداد کو اس صورت میں دین کے لیے وقف کردیں کہ جب سلسلہ کی طرف سے ان سے مطالبہ کیا جائے گا انہیں وہ جائیداد اسلام کی اشاعت کے لیے پیش کرنے میں قطعاً کوئی عذر نہیں ہو گا۔“ (افضل 14 مارچ 1944 ء) میں نے جائیداد وقف کرنے کی تحریک کی تھی۔قادیان کے دوستوں نے اس کے جواب میں شاندار نمونہ دکھایا ہے اور اس تحریک کا استقبال کیا ہے۔بہت سے دوستوں نے اپنی جائیداد وقف کر دی ہے۔66 (الفضل 31 مارچ 1944ء) خدا تعالیٰ کے فضل سے مخلصین جماعت نے چند گھنٹوں کے اندر اندر چالیس لاکھ کی جائیداد وقف کر دیں۔5۔وقف زندگی کی تحریک: خدمت دین کے لئے زندگی وقف کرنے کی اہمیت اور یہ بتانے کے بعد کہ اصل عزت خدمت دین میں ہے حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔و بعض لوگ حماقت سے یہ سمجھتے ہیں کہ جو تقریر اور تحریر کرے وہی مبلغ ہے۔حالانکہ اسلام تو ایک محیط کل مذہب ہے، اس کے احکام کی تعمیل کے لئے ہمیں ہر قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہے۔وہی مبلغ نہیں جو تبلیغ کے لئے باہر جاتا ہے، جو سلسلہ کی جائیدادوں کا انتظام تن دہی اور اخلاص سے کرتا ہے اور باہر جانے والے مبلغوں کے لئے اور سلسلہ کے لٹریچر کے لئے روپیہ زیادہ سے زیادہ کماتا ہے وہ اس سے کم نہیں اور خدا تعالیٰ کے نزدیک مبلغوں میں شامل ہے، جو سلسلہ کی عمارتوں کی اخلاص سے نگرانی کرتا ہے وہ بھی مبلغ ہے، جو سلسلہ کے لئے تجارت کرتا ہے وہ بھی مبلغ ہے، جو سلسلہ کا کارخانہ چلاتا ہے وہ بھی مبلغ ہے، جو زندگی وقف کرتا ہے اور اسے سلسلہ کے خزانہ کا پہریدار مقرر کیا جاتا ہے وہ بھی مبلغ ہے۔کسی کام کی نوعیت کا خیال دل سے نکال دو اور اپنے آپ کو سلسلہ کے ہاتھ میں دے دو پھر جہاں تم کو مقرر کیا جائے گا وہی مقام تمہاری نجات اور برکت کا مقام ہو گا 6 (الفضل 31 مارچ 1944ء) نوٹ:۔اللہ کے فضل سے اس وقت تقریباً 400 سے زائد واقفین مبلغین پاکستان و بیرونی ممالک میں خدمات بجا لا رہے ہیں بہت سے ممالک کے لوکل معلمین و مشنری واقفین کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔-6 کالج فنڈ (College Fund) کی تحریک: جماعت کے نوجوانوں کی علمی و تربیتی ضروریات کو بہتر رنگ میں پورا کرنے کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپیہ چندہ کی تحریک فرمائی اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس مد میں گیارہ ہزا ر چندہ ادا کیا۔(الفضل 23 مئی 1944ء) 393