مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 395
جھاڑ کر آگے نکل جائیں تو میں سمجھتا ہوں تبلیغ کا سوال ایک دن میں حل ہو جائے گا۔“ ( الفضل 21 دسمبر 1944 ء) 9۔نماز تہجد پڑھنے کی تحریک: ذکر الہی، نوافل اور نماز تہجد کی ادائیگی کی تحریک حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ ہمیشہ ہی فرماتے تھے۔اس بابرکت دور میں نوجوانوں کو خصوصیت سے اس طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” خدام کا فرض ہے کہ کوشش کریں سو فیصدی نوجوان نماز تہجد کے عادی ہوں یہ ان کا اصل کام ہو گا جس سے سمجھا جائے گا کہ دینی روح ہمارے نوجوانوں میں پید اہو گئی ہے۔باقاعدہ تہجد پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ سو فیصدی تہجد گزار ہوں الا ماشاء اللہ سوائے ایسی کسی صورت کے جو مجبوری کی وجہ سے ادا نہ کر سکیں اور خدا تعالیٰ کے حضور ایسے معذور ہوں کہ اگر فرض نماز بھی جماعت کے ساتھ ادا نہ کر سکیں تو قابل معافی ہوں۔“ 10۔سات مراکز قائم کرنے کی تحریک: (الفضل 7 جولائی 1944ء) تبلیغ اسلام کو زیادہ منتظم و مئوثر طور پر کرنے کے لئے حضور نے ہندوستان کے مندرجہ ذیل سات اہم شہروں میں مساجد تعمیر کرنے اور تبلیغی مراکز قائم کرنے کی تحریک فرمائی۔کراچی، مدراس، بمبئی، کلکتہ، دہلی، لاہور اور پیشاور۔( افضل 4 اگست 1944 ء) یہ تو ابتدا تھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ان سات شہروں کے علاوہ اور بھی قریباً ہر شہر اور قصبہ میں ایسے مراکز قائم ہو چکے ہیں جہاں جماعت کے قیام کے الہی اغراض و مقاصد کے حصول کی خاطر مخلصین جماعت بڑی توجہ اور محنت سے سر گرم عمل ہیں۔11۔قرآن مجید اور بنیادی لٹریچر کے تراجم کی تحریک: انگریزی زبان میں ترجمہ کا کام تو جماعت میں ہو رہا تھا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس مبارک دور میں اس کے علاوہ دنیا کی مشہور سات زبانوں میں قرآن مجید اور بعض دوسری بنیادی اہمیت کی کتب کے تراجم شائع کرنے کی تحریک فرمائی اور حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اطالوی (Italian) زبان میں ترجمہ کا خرچ میں ادا کروں گا کیونکہ خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ چونکہ پہلے مسیح کا خلیفہ کہلانے والا (پوپ (Pope)۔ناقل) اٹلی (Italy) میں رہتا ہے اس مناسبت سے قرآن مجید کا جو ترجمہ اطالوی زبان میں شائع ہو وہ مسیح محمدی کے خلیفہ کی طرف سے ہونا چاہئے۔“ اس تحریک پر جماعت نے عجیب والہانہ رنگ میں لبیک کہا اس پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ خدا تعالیٰ کا کتنا بڑا فضل ہے کہ ادھر بات منہ سے نکلتی ہے اور اُدھر پوری ہو جاتی ہے۔باوجود خطبہ کے دیر سے شائع ہونے کے چھ دن کے اندر سات زبانوں کے تراجم کے اخراجات کے وعدے آگئے نو تراجم کے اخراجات کے وعدے آچکے ہیں یہ خدا کا کتنا بڑا فضل اور انعام ہے کہ جماعت کے ایک تھوڑے سے حصہ نے نہایت قلیل عرصہ میں مطالبہ سے بڑھ کر وعدے پیش کر دیئے ہیں، خاص کر قادیان کی غریب جماعت نے اس تحریک میں بڑا حصہ لیا۔“ وو الفضل 4 نومبر 1944 ء و سوانح فضل عمر جلد 3۔صفحہ 376 تا383) 395