مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 388 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 388

سکیم (scheme) پر عمل کرنے سے مخالفت کے طوفان کا رُخ کس طرح تبدیل ہوا اس کے بارہ میں حضرت خض میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: احرار میرے مقابل پر اٹھے، احرار کو بعض ریاستوں کی بھی تائید حاصل تھی کیونکہ کشمیر کمیٹی کی صدارت جو میرے سپرد کی گئی تھی اس کی وجہ سے کئی ریاستوں کو یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ اس زور کو توڑنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ یہ کسی اور ریاست کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔۔۔۔احرار نے 1934ء میں شورش شروع کی اور اس قدر مخالفت کی کہ تمام ہندوستان کو ہماری جماعت کے خلاف بھڑکا دیا۔اس وقت مسجد میں منبر پر کھڑے ہو کر میں نے ایک خطبہ میں اعلان کیا کہ تم احرار کے فتنہ سے مت گھبراؤ ! خدا مجھے اور میری جماعت کو فتح دے گا کیونکہ خدا نے مجھے جس راستہ پر کھڑا کیا ہے وہ فتح کا راستہ ہے جو تعلیم مجھے دی ہے وہ کامیابی تک پہنچانے والی ہے اور جن ذرائع کو اختیار کرنے کی اس نے مجھے توفیق دی ہے وہ کامیاب و بامراد کرنے والے ہیں۔اس کے مقابلہ میں زمین ہمارے دشمنوں کے پاؤں سے نکل رہی ہے اور میں ان کی شکست کوان کے قریب آتے دیکھ رہا ہوں۔وہ جتنے زیادہ منصوبے کرتے اور اپنی کامیابی کے نعرے لگاتے ہیں اتنی ہی نمایاں مجھے ان کی موت دکھائی دیتی ہے۔“ تحریک جدید کے مزید ثمرات: الفضل 30 مئی 1935 ء و سوانح فضل عمر جلد 3 صفحہ 295) اللہ کے فضل و کرم سے تحریک جدید کے ثمرات جاری وساری ہیں۔30 جولائی 2005 ء کے جلسہ برطانیہ میں حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان ترقیات کے اعداد و شمار بیان فرمائے جو مختصراً تحریر ہیں: جماعت کا امسال تک نئے ممالک میں نفوذ = 181 ممالک کل بیوت الذکر کی تعداد 13 ہزار 776 بیوت (صرف ایک سال میں 319 نئی بیوت ملی ہیں) (1984ء سے تا حال) تراجم قرآن کریم = کل 60 زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں امسال 2005 ء میں 2لاکھ سے زائد افراد جماعت میں داخل ہوئے وقف جديد ایک اور بابرکت تحریک: الفضل 5 اگست 2005ء) جماعت کی مالی جہاد اور قربانیوں کی تاریخ نہایت شاندار اور قابل رشک ہے۔اس عظیم مثالی کارنامہ کے پیچھے حضرت ت مصلح موعود کی ولولہ انگیز قیادت کا کسی قدر تذکرہ تحریک جدید کے ضمن میں ہو چکا ہے تحریک جدید کا اجرا 1934 ء میں ہوا جبکہ حضرت خليفة أمسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی جوانی کا زمانہ اور شدید طوفانی مخالفت کی وجہ سے جماعت کے اندر غیر معمولی جوش و جذبہ کا زمانہ تھا۔1958ء میں جبکہ حضور ( حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ) ایک ایسے خوفناک قاتلانہ حملہ سے دوچار ہو چکے تھے جس میں نادان دشمن کا وار شہ رگ سے چھوتے ہوئے اور اپنے اثرات چھوڑتے ہوئے نکل گیا تھا اس حملہ کے نتیجہ میں حضور (حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ) ایک انتہائی تکلیف دہ اعصابی بیماری میں مبتلا ہو چکے تھے مگر عمر کی زیادتی، بیماری کی شدت، ذمہ داریوں کے ہجوم میں ہمارا یہ خدا رسیدہ قائد ایک عجیب شان کے ساتھ جماعت کی روحانی ترقی اور تربیت کے لیے ایک نہایت 388