مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 389 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 389

پروگرام اس جماعت کے سامنے پیش کرتا ہے جو تقسیم وطن کے نتیجہ میں ایک بہت بڑے دھکے کو برداشت کر کے نئے سرے سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش میں مصروف ہے اور ایک دفعہ پھر دنیا پر یہ ثابت کر دیتا ہے کہ خدائی تائید یافتہ اولیاء اللہ کی شان دنیوی لیڈروں اور خود ساختہ پیروں سے کتنی مختلف اور ارفع و اعلیٰ ہوتی ہے۔اس سکیم کی اہمیت و فادیت کی اندازہ حضور حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ) کے مندرجہ ذیل ارشاد سے ہوتا ہے: میں چاہتا ہوں کہ اگر کچھ نوجوان ایسے ہوں جن کے دلوں میں یہ خواہش پائی جاتی ہو کہ وہ حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی اور حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی کے نقش قدم پر چلیں تو جس طرح جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں تحریک جدید کے ماتحت وقف کرتے ہیں وہ اپنی زندگیاں براہ راست میرے سامنے وقف کریں تا کہ میں ان سے ایسے طریق پر کام لوں کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دینے کا کام کرسکیں۔۔۔۔ہمارا ملک آبادی کے لحاظ سے ویران نہیں ہے لیکن روحانیت کے لحاظ سے بہت ویران ہو چکا ہے۔۔۔پس میں چاہتا ہوں کہ جماعت کے نوجوان ہمت کریں اور اپنی زندگیاں اس مقصد کے لیے وقف کریں۔۔۔اور باہر جا کر نئے ربوے اور نئے قادیان بسائیں۔۔۔وہ جا کر کسی ایسی جگہ بیٹھ جائیں اور حسب ہدایت وہاں لوگوں کو تعلیم دیں۔لوگوں کو قرآن کریم اور حدیث پڑھائیں اور اپنے شاگرد تیار کریں جو آگے اور جگہوں پر پہنچ جائیں۔“ افضل 6 فروری 1958 ء) حضرت خلیفہ لمسیح الثانی رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں: یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے اور ضرور پورا ہو کر رہے گا۔میرے دل میں چونکہ خدا تعالیٰ نے یہ تحریک ڈالی ہے اس لیے خواہ مجھے اپنے مکان بیچنے پڑیں، کپڑے بیچنے پڑیں میں اس فرض کو پھر بھی پورا کروں گا۔خدا تعالیٰ۔۔۔۔۔میری مدد کے لیے فرشتے آسمان سے اُتارے گا۔“ ( الفضل 7 جنوری 1958ء) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس انجمن کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: ”پشاور سے کرچی تک رُشد و اصلاح کا جال پھیلا یا جائے بلکہ اصلی حقیقت تو یہ ہے کہ اگر ہم نے رُشد و اصلاح کے لحاظ سے مشرقی اور مغربی پاکستان کا گھیراؤ کرنا ہے تو اس کے لیے ہمیں ایک کروڑ روپے سالانہ سے بھی زیادہ کی ضرورت ہے۔“ وقف جدید کے ثمرات: (سوانح فضل عمر جلد 3۔صفحہ 347 تا 350) اس امر کا اندازہ کہ وقف جدید کس حد تک اپنے مقصد میں کامیاب ہے اور دیہاتی جماعتوں پر اس کے کیا خوش کن اثرات ظاہر ہو رہے ہیں مندرجہ ذیل امور سے لگایا جا لگایا جا سکتا ہے: ر چندوں میں غیر معمولی اضافہ: معلمین کے ذریعہ دو طرح پر جماعتی چندوں میں اضافہ ہوتا ہے۔اوّل ان کی تربیت کے نتیجہ میں جماعت میں قربانی کی روح ترقی کرتی ہے اور جماعتی چندوں پر بھی اس کا نہایت خوشگوار اثر پڑتا ہے۔مثلاً ایک جماعت کے پریذیڈنٹ (President) صاحب تحریر کرتے ہیں۔389