مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 343 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 343

صاحبہ بہت سخت بیمار ہو گئیں۔بچے کی پیدائش کے نتیجہ میں ان کی بڑی بیٹی فرحت پیدا ہوئی تھیں جو آجکل حیدر آباد کن میں ہیں۔اس کے نتیجے میں بے احتیاطی ہوئی، بخار چڑھ گیا جو انفیکشن (infection) کا بخار تھا۔اس زمانے میں تو ابھی پنسلین و غیره ایجاد نہیں ہوئی تھیں۔بخار اکثر مہلک ثابت ہوا کرتا تھا اور 108 تک درجہ حرارت پہنچ گیا۔وہ اپنی بیوی کو ہسپتال چھوڑ کر سیدھا قادیان بھاگے اور جا کر وہ کہتے ہیں کہ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا قصر خلافت کا ، حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور کہا: مالک کس طرح آئے ہو؟ اور ساتھ ہی مجھے لے کر اندر ڈرائنگ روم میں چلے گئے جہاں حافظ مختار احمد صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے عرض کیا کہ یہ کیفیت ہے اور بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت صاحب(حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) نے دعا کی اور چند لمحے توقف فرمایا اور میرے بازو پر ہاتھ مار کر فرمایا مولوی صاحب! اب آپ کی بیوی کو بخار نہ ہو گا۔اس جگہ حضرت مختار احمد صاحب بھی تشریف فرما تھے۔حضور (حضرت خليفة اسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) نے مجھے یہ بشارت دی اور فرمایا آپ اب جا سکتے ہیں اس پر حضرت حافظ صاحب بھی میرے ہمراہ باہر تشریف لائے اور باہر نکل کر مجھے بتایا کہ آپ کی بیوی کا بخار پونے دس بجے ٹوٹا ہوگا کیونکہ جس لمحہ حضور (حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) نے آپ کو بشارت دی تھی اس وقت میں نے گھڑی دیکھی تو بعینہ اس وقت پونے دس کا وقت تھا اس لئے آپ جائے اور جا کر دریافت کریں کہ یہ بخار کب ٹوٹا تھا؟ کہتے ہیں میں واپس پہنچا فیروز پور ہسپتال میں جو عیسائی ہاسپٹل(Hospital) تھا وہاں کی عیسائی لیڈی ڈاکٹر سے انہوں نے کہا کہ میری بیوی ٹھیک ہو چکی ہے اور میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کیا اس کا بخار پونے دس بجے ٹوٹا تھا؟ اس نے کہا تمہیں کیسے پتا کہ یہ ٹھیک ہو گئی ہے اور تم رتمہیں کیسے پتا کہ پونے دس بجے ٹوٹا ہے؟ انہوں نے کہا: میں قادیان سے آرہا ہوں اس طرح میں نے دعا کی درخواست کی تھی، یہ واقعہ ہوا ہے اس لیے مجھے یقین ہے۔شاید اس اُمید پر کہ یہ بات جھوٹی نکلے وہ اسی وقت، حالانکہ ملاقات کا وقت نہیں تھا ان کو ساتھ لے کر یعنی مولوی عبدالمالک خان صاحب کو ساتھ لے کر ،ان کے کمرے میں گئی اور بخار کا چارٹ دیکھا۔عین نو بج کر پینتالیس بخار نارمل ہوا تھا اور وہ چارٹ گواہ بنا ہوا کھڑا تھا۔“ منٹ پر (خطبہ عید الفطر 27 اپریل 1990 ء) محترم سعدیہ خانم صاحبہ اہلیہ محترم عبدالقیوم خان کمپونڈر ربوہ لکھتی ہیں:۔1949ء کی بات ہے کہ میری لڑکی جو اس وقت صرف دو سال کی تھی۔اس کے پاؤں کے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی پر شدید چوٹ آنے سے ہڈی کو سخت نقصان پہنچا اور زخم بڑھتے بڑھتے ناسور کی شکل اختیار کر گیا۔ہم اس وقت راولپنڈی میں تھے۔بڑے بڑے ڈاکٹروں، حکیموں، جراحوں اور نائیوں سے علاج کروایا مگر کسی۔افاقہ نہ ہوا اور ڈاکٹروں نے خطرہ ظاہر کیا کہ کہیں لڑکی کی ٹانگ نہ کاٹنی پڑے۔ہمیں لڑکی کے بارہ میں سخت تشویش تھی۔اوپر سے زخم مل جاتا لیکن پھر مہینہ ہمیں دن کے بعد انگلی کی ہڈی سے پیپ بہنے لگتی۔بے شمار دوائیں کھلائی گئیں۔اسی عرصہ کے دوران ہمیں اپنی ڈاکٹری کی دکان کے سلسلہ میں ضلع ہزارہ میں رہنے کا موقع ملا۔ایک دفعہ پھر پہلے کی طرح پیپ بہنے لگی۔عصر کی نماز کا وقت تھا اور میں نماز پڑھ رہی تھی کہ وہاں کی پہاڑی عورتوں نے لڑکی کے والد کو مشورہ دیا کہ آپ اس کو فلاں خانقاہ پر لے جائیں اور وہاں کی مٹی سے دو تین دفعہ نہلائیں۔لڑکی کے والد تو خاموش رہے لیکن جب نماز پڑھتے ہوئے یہ آواز میرے کان میں پڑی تو میرا دھیان اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی طرف پھر گیا اور میں نے نماز میں بڑے بجز و انکسار سے دعا کی کہ اے رحیم و غفور آقا! لڑکی کو صحت دے۔میں نے لڑکی کے والد سے کہا کہ اگر لڑکی مرتی ہے تو مر جائے ہم اپنا 343