مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 344 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 344

ایمان کیوں خراب کریں، خدا تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے وہ صحت دے گا۔میں حضور اقدس حضرت خلیفہ اقدس(حضرت امسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) کی خدمت میں دعا کے لئے لکھوں گی۔سو اسی دن میں نے حضور (حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا اور دو تین ہفتے متواتر سھتی رہی اور حضور ( حضرت خلیفہ ایج الثانی رضی اللہ عنہ) کی طرف سے جواب بھی ملتا رہا۔قدرت خدا وند تعالیٰ کہ جو دوائی ہم بیسیوں دفعہ لگا چکے تھے اسی دوائی سے زخم بھر گیا اور کچھ دنوں میں کامل طور پر شفاء ہو گئی اور بفضلہ تعالی لڑکی اب تک بالکل ٹھیک اور تندرست ہے۔فالحمد للہ علی ذلک۔محترمہ سعدیہ خانم لکھتی ہیں: (ماہنامہ مصباح ستمبر 1962ء) ”میرا لڑکا روز پیدائش سے ہی بیمار اور کمزور رہنے لگا تھا۔یہ 1955ء کی بات ہے صرف ہیں دن کا تھا کہ اسے نمونیہ ہوا اور پھر سال ڈیڑھ سال کے اندر چار دفعہ لگا تار اس کا حملہ ہوا۔علاج معالجہ میں کمی نہ تھی لیکن آئے دن اس کی بیماری سے سخت پریشانی رہتی تھی۔ایک دن عصر کے وقت جبکہ حضور نے نماز پڑھانے کے لیے آنا تھا میرے میاں بچے کو لے گئے۔جب حضور قصر خلافت سے باہر تشریف لائے تو میرے میاں نے آگے بڑھ کر عرض کیا۔حضور دعا فرما دیں۔اس پر حضور نے ازراہ شفقت بچے کی کمر پر ہاتھ پھیرا اور دعا فرمائی اور پھر بفضلہ تعالیٰ بچہ اس موذی بیماری سے تندرست ہو گیا اور آج تک اس کے دوبارہ حملہ سے محفوظ ہے۔فالحمد للہ محترمہ سعدیہ خانم صاحبہ تحریر کرتی ہیں: (ماہنامہ مصباح ستمبر 1962ء) ”میری ایک ہمشیرہ کے شادی کے سات سال بعد ایک لڑکا ہوا وہ بھی ایک سال کا تھا کہ فوت ہو گیا۔شادی کو بارھواں سال ہو چکا تھا اور کوئی بچہ نہ تھا۔میں نے حضور (حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) کی خدمت میں دعا کے لئے تفصیلی خط لکھا کہ حضور ( حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) میری ہمشیرہ کا میاں بھی اکیلا ہے نہ اس کا کوئی بھائی ہے نہ بہن ہے، نہ ماں نہ باپ ہیں۔حضور ( حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اسے نیک اولاد کی نعمت سے نوازے۔الحمد للہ کہ درخواست دعا کے پورے ایک سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کو چاند جیسی لڑکی عطا فرمائی۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کے ایک لڑکا اور ایک لڑکی اور ہیں۔حضرت طلبیت لمسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی دعا کا معجزانہ اثر (ماہنامہ مصباح ستمبر 1962ء) مکرم ملک حبیب اللہ صاحب ریٹائرڈ ڈپٹی انسپکٹرز آف سکولز لکھتے ہیں: شجاع آباد کے قیام کے دوران مجھے ایک ایسا مرض لاحق ہو گیا جس نے مجھے بالکل نڈھال اور مردہ کی مانند کر دیا۔تھوڑے تھوڑے دنوں کے بعد پیٹ میں اتنا شدید درد اٹھتا کہ میں بے ہوش ہو جاتا۔تقریباً دو سال میں نے ہر قسم کے علاج کئے لیکن حالت خراب ہو گئی۔آخر تنگ آکر میں نے امرتسر کے سرکاری ہسپتال میں داخلہ لے لیا۔وہاں ٹیسٹ ہوئے اور یہ فیصلہ ہو کہ میرے پتا اور اپنڈکس ہر دو کا اپریشن ہو گا۔اس سے مجھے گھبراہٹ پیدا ہوئی اور میں ایک دن بلا اجازت ہسپتال سے چلا گیا اور قادیان پہنچا اور حضور (حضرت خلیفۃ ایج الثانی رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں حاضر ہو کر تمام ماجرا عرض کیا حضور ( حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) 344