مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 342 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 342

العزیز) اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ تعالی عنہ کو قید کر لیا گیا۔آپ (حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) کا پریشان ہونا ایک قدرتی امر تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ (حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) اس لحاظ سے ضرور مطمئن تھے کہ میرا بیٹا اور بھائی محض اس جرم میں ماخوذ ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں اور دین محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے علمبردار ہیں اور دین کے راستہ میں آزمائش بھی سنت نبوی ہے۔گرمیوں کے دن تھے اور پھر ربوہ کی گرمی! عشا کے وقت ہم حسب معمول صحن میں تھے۔باوجود اُوپر کی منزل میں ہونے کے گرمی کی شدت میں کمی نہ تھی۔رات کا کھانا ہم اکٹھے کھارہے تھے اس دوران میں آپ (حضرت خليفة أمسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) نے گرمی کی شدت اور اس سے بے چینی کا اظہار فرمایا۔میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا: ” پتہ نہیں میاں ناصر (خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ اور میاں صاحب (حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ) کا اس گرمی میں کیا حال ہوگا؟ خدا معلوم انہیں وہاں (یعنی جیل میں) کوئی سہولت بھی میسر ہے یا نہیں؟ آپ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) نے جواباً فرمایا: اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے وہ صرف اس جرم پر ماخوذ ہیں کہ ان کا کوئی جرم نہیں اس لیے مجھے اپنے خدا پر کامل یقین و ایمان ہے کہ وہ جلد ہی ان پر فضل کرے گا۔“ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ آپ (حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ عشا کی نماز کیلئے کھڑے ہو گئے ، گریہ و زاری کا وہ منظر میں بھول نہیں سکتی۔میں اس کی کیفیت کو قلمبند نہیں کر سکتی جو اس وقت میری آنکھوں نے دیکھا۔اس گریہ میں تڑپ اور بے قراری بھی تھی، اس میں ایمان و یقین کامل کا بھی مظاہرہ تھا، اس میں ناز اور ناز برداری کی سی کیفیات بھی تھیں۔یہی منظر پھر میں نے تہجد کے وقت دیکھا۔اس وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ دعائیں بلند آواز سے نہایت بجز اور رقت کے ساتھ مانگ تھے۔۔۔آپ (حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) کی دعا رات کے سکوت میں اس قدر بلند تھی کہ میں سمجھتی تھی کہ یہ آواز ہمارے ارد گرد بچوں کے گھروں تک ضرور پہنچی ہو گی۔چنانچہ جب دن چڑھا اور ڈاک کا وقت ہوا تو پہلا تار جو ملا وہ یہ خوشخبری لئے ہوئے تھا کہ حضرت میاں صاحب، عزیز محترم میاں ناصر احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ) رہا ہو چکے ہیں۔کتنی جلدی میرے خدا نے مجھے قبولیت دعا کا معجزہ دکھایا۔الحمد للہ رہے روزنامه الفضل فضل عمر نمبر 26 مارچ 1966ء) حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب ”حیات قدسی“ میں تحریر فرماتے ہیں: ”میں نے قادیان میں اپنا ایک مکان بنوایا اور مکان بنوانے کے لیے بعض احباب سے قرض لیا تو میں پریشان تھا اور چاہتا تھا کہ یہ قرض جلد اتر جائے۔چنانچہ میں نے رمضان المبارک کے مہینہ میں خصوصیت سے قرض کی ادائیگی کی بابت دعا شروع کی جب دعا کرتے آٹھواں دن ہوا تو اللہ تعالیٰ میرے ساتھ ہم کلام ہوا اور اس اپیارے محبوب مولا مولا نے مجھ سے ان الفاظ میں کلام فرمایا۔"اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا قرضہ جلد اتر جائے تو خلیفہ سیح کی دعاؤں کو بھی شامل کرالے۔اس کے بعد جلد معجزانہ رنگ میں یہ قرض اتر گیا۔دو حیات قدی حصہ چہارم صفحہ 6,7) حضرت مولوی عبدالمالک خان صاحب مرحوم و مغفور یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ: 1939ء کا واقعہ ہے، میں فیروز پور میں متعین تھا۔مختصراً میں ان کی طرف سے یہ بیان کر دیتا ہوں۔ان کی 342