مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 333
رات خواب میں میاں احمد کو دیکھا یعنی میاں غلام احمد صاحب، میاں خورشید احمد صاحب کے چھوٹے بھائی اور وہ ہمیشہ بہت اچھا مشورہ دیا کرتے ہیں، قرآن کریم کے متعلق بھی انہی کا مشورہ تھا کہ بجائے تفسیر صغیر کے نوٹس لکھوں میں نیا ترجمہ کروں۔تو الحمد للہ کہ خدا تعالیٰ نے اس ترجمہ کی تو فیق عطا فرمائی اور بہت سے مسائل اس سے حل ہوتے ہیں۔خواب میں میاں احمد ہی دکھائی دیئے انہوں نے کہا کہ ہمیں آپ کی دو کاموں میں بہت مدد کی ضرورت ہے۔میں نے کہا کیا کیا کام ہیں؟ انہوں نے کہا ایک تو رشتہ ناطہ، رشتہ ناطہ کو بہت زیادہ نظر انداز کر دیا گیا ہے اور اس کی وجہ سے بہت سی لڑکیاں بے چاری شادی کے بغیر پڑی ہوئی بہت سے لڑکوں کو اپنا مناسب رشتہ نہیں ملتا پاکستان میں بھی بہت اچھے اچھے لڑکے ہیں جو اچھا ایک پروفیشن اختیار کر سکتے ہیں اور سادہ مزاج ہیں۔اگر انگلستان کی لڑکیاں ناک بھوں نہ چڑھائیں اور اس رشتہ کو قبول کر لیں تو دونوں کا فائد ہے۔بہر حال اس قسم کی باتیں انہوں نے کیں۔ہیں، اور ساتھ ہی یہ کہا کہ دوسرا کام بے کار نوجوانوں کو کام پر لگانا ہے، اس کی طرف بھی توجہ بہت کم ہے۔بہت سے اچھے تعلیم یافتہ ہیں جو بے کار ہیں اور ان کو کوئی کام نہیں دیا جا رہا یا کسی ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں سختی کی وجہ سے ان سے ناانصافی ہو رہی ہے تو ایسے لوگوں کی باہر شادیاں کروا دینا دونوں مسائل کو اکٹھا کر دینا ہے کیونکہ اپنے ملک سے باہر شادیاں کریں گے تو باہر والوں کا بھی مسئلہ حل ہوگا اور پاکستان کا بھی مسئلہ حل ہوگا اور ان کو کام پر لگانے کا کا شعبہ بہت مستعد ہونا چاہئے۔تو یہی دو باتیں ہیں جو میں آپ کو سنانی چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خود ہی میرے سوالات کا جواب دے دیا۔“ الفضل ربوہ 13 فروری 2001ء) غانا (Ghana) سے بُرکینا فاسو (Burkina Faso) کا سفر: سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دورہ افریقہ کے دوران غانا سے بور کینا فاسو بذریعہ سڑک جانے کا ذکر کر تے ہوئے فرماتے ہیں: بذریعہ سڑک جانے کا پروگرام بھی اللہ تعالیٰ کی خاص تقدیر سے ہی بنا لگتا ہے کیونکہ پہلے جو گھانا والوں نے روگرام بنایا تھا اور اس کی اپروول (Aproval) ہو گئی تھی، اس کے مطابق تو دورہ نارتھ (North) تک کا مکمل کرنے کے بعد ہمیں پھر واپس اکرا (Accra) آنا تھا وہاں سے بائی ایئر (By Air) پھر برکینا فاسو جانا تھا لیکن روزانہ فلائٹ نہیں جاتی بلکہ دو دن جاتی ہے۔ان میں سے ایک جمعہ کا دن تھا۔تو وکیل التبشیر ماجد صاحب نے مجھے کہا کہ جمعہ جلدی پڑھ کے فوراً ہی ائر پورٹ جانا ہو گا۔اس پر مجھے کچھ انقباض ہوا میں نے کہ اس طرح نہیں جانا بلکہ بعض شہر جو انہوں نے پروگرام میں نہیں رکھے ہوئے تھے اور میرے علم میں تھے میں نے کہا کہ وہ بھی دیکھ کر جائیں گے اور بائی روڈ (By road) جائیں گے۔بہر حال اس کا یہ فائدہ بھی ہوا کہ چند مزید مساجد کا افتتاح بھی ہو گیا لیکن اصل بات اس میں یہ ہے کہ لندن سے سفر شروع کرنے سے ، چند دن پہلے ماجد صاحب نے بتایا کہ برکینا فاسو کے مبلغ نے انہیں حضرت خلیفہ اسیح الرابع کی ایک خواب یاد کروائی جو ماجد صاحب کو بھی یاد آ گئی کہ حضور (حضرت خلیفة امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے دیکھا تھا ہے کہ کاروں کے ذریعے سے بائی روڈ گھانا سے بور کینا فاسو میں داخل ہوئے ہیں اور کوئی اسماعیل نامی آدمی بھی ان کو وہاں ملتا ہے، بارڈر پہ یا کراس کر کے، اس پر حضور نے بعض اسماعیل نامی آدمیوں کی تصویریں بھی منگوائی 333