مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 332
سمجھائے تو کشفی حالت میں خدا تعالیٰ نے یہ مضمون ایک اور رنگ میں مجھے دکھایا اور وہ یہ تھا کہ جیسے ایک کارخانے میں آپ ایک طرف سے کسی چیز کا Raw Material یعنی خام مال ڈالتے ہیں تو وہ ایک نہایت ہی خوبصورت اور اعلیٰ تکمیل کی شکل میں ایک طرف سے نکل رہا ہوتا ہے لیکن اس کے ایک طرف وہ گند بھی نکل رہا ہوتا ہے جو اس قابل نہیں ہوتا کہ اس کارخانے میں داخل ہو نے کے بعد وہ اپنے اندر ایسی تبدیلی کر سکے کہ اسے ایک مکمل صنعت کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے، اس کو وہ Waste Product کہتے ہیں۔پس ایک چیز ہے End product اور ایک ہے Waste product تو ہر صنعت کا وہ مال ہے جس کی خاطر صنعت کاری کی جاتی ہے اور کارخانے بنائے جاتے ہیں اور اپنی آخری شکل میں بہت خوبصورت تبدیلیاں پیدا ہونے کے بعد وہ ایک نئے وجود کی صورت میں خام مال دنیا کے سامنے ظاہر ہوتا ہے اب اس وقت آپ کے پاس جتنی بھی چیزیں ہیں وہ سب اسی طرح کسی نہ کسی کارخانے سے نکل کر ایک نئی شکل میں آپ کے سامنے ظاہر ہوئی ہیں۔کسی نے کپڑے کی ٹوپی پہنی ہوئی ہے، کسی نے قراقلی پہنی ہوئی ہے۔اب تصور کریں کہ یہ کیا چیزیں تھیں؟ اسی طرح آپ کے لباس، آپ کے بوٹ، آپ کے قلم یہ سب خام مال تھے جو مختلف مراحل سے گزر کر بالآخر اس شکل میں آپ تک پہنچے جس میں آپ نے ان کو قبول کی اور استعمال کیا لیکن آپ کا ذہن اس گندگی کی طرف کبھی نہیں گیا جو اس دوران پیدا ہوتی رہی اور ان چیزوں سے الگ کی جاتی رہی اور اسے ضائع شدہ مال کے طور پر ایک طرف پھینک دیا گیا۔چنانچہ اس زمانے میں صنعتوں نے جہاں بہت ترقی کی ایک بہت بڑا مسئلہ بن کر دنیا کے سامنے ابھرا ہے کہ اس Waste ہے، material کا کیا کریں؟ یہ تو دنیا کے لئے عذاب بنتا جا رہا ہے۔جب یہ کم ہوا کرتا تھا اس زمانے میں انسان کی توجہ کبھی اس طرف نہیں گئی اور آج سے سو سال پہلے بھی صنعت کاری تھی، بڑے بڑے کارخانے جاری تھے لیکن کبھی بھی اس زمانے کی اخباروں میں آپ کو یہ بخشیں دکھائی نہیں دیں گی کہ یہ جو اچھی چیزیں بناے کی ہم کوشش کرتے ہیں اس کوشش کے دوران جو چیزیں ضائع ہو رہی ہیں ان کا ہم کیا کریں؟ وہ سمندروں میں پھینک دیتے تھے یا عام کھلی جگہ پر پھینک دیتے تھے یا جھیلوں میں ڈال دیتے تھے اور کبھی ان کے نقصان کی طرف کسی کی توجہ نہ گئی۔اب چونکہ زیادہ چیزیں بن رہی ہیں، اسی طرح waste material بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے اور waste material ایسی خطر ناک چیز بن کر دنیا کے سامنے ابھرا ہے کہ اس کے غضب سے دنیا ڈرنے لگی ہے اور یہ بڑا بھاری مسئلہ ہے۔دنیا کی تمام بڑی قوموں میں اب بہت ہی فکر کے ساتھ ان مسائل پر غور ہورہا ہے کہ کس طرح ان مصیبتوں سے چھٹکارا حاصل کریں جو صنعت کے دوران By product کے طور پر waste product کے طور پر ہمارے ہاتھوں میں پڑی ہوئی ہیں اور ہم نہیں سمجھتے کہ کس طرح اس صنف سے چھٹکارا حاصل کریں۔“ رشتہ ناطہ اور بیروزگاری کا مسئلہ: حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالٰی نے خطبہ جمعہ 15 دسمبر 2000ء میں فرمایا: (روزمامه الفضل 6فروری1991) ایک رؤیا ایسی سنانی ہے جس سے خدا تعالیٰ نے میرے دو سوالات کا جواب دیا ہوا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ آج کے لیے وہی کافی ہو گا۔مجھے خیال تھا کہ مجھے مصروفیتیں بڑھانی چاہئیں۔یہ سوچتے سوچتے ہی سویا تھا تو 332