مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 314
جب آپ اپنی منزل مقصود کی طرف جائیں تو وہ کس طرح اس منزل مقصود کو اختیار کر لیتی ہے۔جب وہ فرشتہ یہ کہ رہا تھا تو میری آنکھوں کے سامنے جولاہوں کی ایک لمبی تانی آئی جو بالکل سیدھی تھی اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ صراط مستقیم کی مثال ہے جس کی طرف آپ کو خدا لے جا رہا ہے اور ہر فتنہ کے موقع پر وہ دیکھتا ہے کہ کیا جماعت بھی اسی صراط مستقیم کی طرف جا رہی ہے یا نہیں۔تانی دکھانے سے یہ بھی مراد ہے کہ کس طرح نازک تاگے آپس میں باندھے جا کر مضبوط کپڑا کی صورت اختیار کر لیتے ہیں یہی حالت جماعت کی ہوتی ہے تک ایک امام کا رشتہ اسے باندھے رکھتا ہے وہ مضبوط رہتی ہے اور قوم کے ننگ ڈھانکتی رہتی ہے لیکن امام کا رشتہ اس میں سے نکال دیا جائے تو ایک چھوٹا سا بچہ بھی اسے توڑ سکتا ہے اور وہ تباہ ہو کر دنیا کی یاد سے مٹا دی جاتی ہے۔“ نومبر 1956ء کا خواب: حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: افضل 5 ستمبر 1956ء صفحه (1) ”میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائکہ ربوہ کے اوپر، سارے جو میں، وہ آیتیں پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہیں جو قرآن شریف میں یہودیوں اور منافقوں کے لئے آئی ہیں اور جن میں یہ ذکر ہے کہ اگر تم کو مدینہ سے نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ مدینہ سے نکل جائیں گے اور اگر تم سے لڑائی کی گئی تو ہم تمہارے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑائی کریں گے۔لیکن قرآن شریف منافقوں سے فرماتا ہے کہ نہ تم یہودیوں کے ساتھ مل کر مدینہ سے نکلو گے اور نہ ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑوگے یہ دونوں جھوٹے وعدے ہیں اور صرف یہودیوں کو انگیخت کرنے کے لئے ہیں۔چنانچہ دیکھ لو پہلے تو پیغامیوں نے کہا کہ ہمارا اس فتنہ سے کوئی تعلق نہیں لیکن اب وہ منافقوں کو ہر ممکن مدد دینے کا اعلان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا روپیہ اور ہماری تنظیم اور ہمارا اسٹیج سب کچھ تمہارے لئے وقف ہے گویا وہی کہ رہے ہیں کہ جو خواب میں بتایا گیا تھا۔لیکن ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرے گا کہ وہ اس مدد سے ہٹ جائیں گے اور ان لوگوں سے بے تعلق ہو جائیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہی منشا ہے کسی بڑے آدمی کی طرف منسوب ہونا اب باغیوں کو کوئی فائدہ نہیں دے گا اور پیغام صلح والے اپنے وعدے جھوٹے ثابت کریں گے اور کبھی وقت پر ان کی مدد نہیں کریں گے۔(نظام آسمانی کی مخالفت اور اس کا پس منظر، تقریر جلسہ سالانہ 27 نومبر 1957 شائع کردہ الشرکتہ الاسلامیہ لمٹیڈ ربوہ) حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بارش ہو رہی ہے اور ہم نماز پڑھنا چاہتے ہیں مگر بارش کی وجہ سے چونکہ کیچڑ ہے ہم نماز نہیں پڑھ سکتے اور اس جگہ جو چھت ہے وہ (لکڑی کے) بالوں والی نہیں بلکہ لوہے کی سلاخوں کی ہے جس میں سے پانی گر سکتا ہے تب میں نے کسی چیز کا سہارا لے کر جو پاس کی چھت پر لوگ بیٹھے تھے ان سے کہا کہ پاس کے کمرہ میں عورتوں سے کہ دو کہ پردہ کرلیں تا کہ ہم کمرہ میں نماز پڑھ سکیں کیونکہ باہر بارش کی وجہ سے کیچڑ ہے۔پھر میں نے ا نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میرا منشا تھا کہ اس جگہ مکان کو وسیع کیا جائے اور کچھ اور چھت ڈال لی جائے تا کہ نمازی اس میں آسکیں اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔314