مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 313 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 313

ساتھ ہیں گویا وہ ہجرت کر رہے ہیں اور میں ان کے ساتھ ہوں۔جماعت نے اس خیال سے کہ پہلو پر سے کوئی حملہ نہ کرے تمام رستہ پر ایک طرف رسہ باندھا ہوا ہے اور دوسری طرف ریل یا ایسی ہی کسی چیز کی پڑی ہے درمیان میں چھوٹا سا رستہ ہے جس پر سے ہم گزر رہے ہیں۔میں آپ علیہ السلام کے ساتھ چل رہا ہوں اور ادب سے ایک دو قدم آپ سے پیچھے رہتا ہوں لیکن جہاں رستہ تنگ ہو جاتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ باہر والی جانب آپ کے قریب ہو جائے گی اور حملہ کا امکان زیادہ ہو جائے گا وہاں میں تیز قدم چل کر آپ کے پہلو میں ساتھ ساتھ چلنا شروع کر دیتا ہوں تا کہ اگر حملہ ہو تو اس کی زد آپ علیہ السلام پر نہ پڑے اسی حالت میں میری آنکھ کھل گئی۔“ دسمبر 1952ء کی رؤیا: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: افضل 30 نومبر 1951 ، صفحہ 2 میں نے دیکھا کہ میں کچھ لوگوں سے کہتا ہوں کہ ہجرت مکہ مکرمہ کی طرف بھی مقدر ہے اور یہ مجھے اللہ تعالیٰ نے پہلے بتا رکھا ہے اور میری کاپی میں لکھا ہوا ہے اس وقت میں ایک کاپی نکال کر دکھاتا ہوں کہ دیکھو اس میں یہ لکھا ہوا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بہت سی غیب کی اخبار لکھی ہوئی ہے۔اس رؤیا کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید کسی وقت مکہ مکرمہ کی حفاظت کے لیے مسلمانوں کو مکہ مکرمہ کی طرف ہجرت کرنی پڑے اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ اپنے اس مقدس شہر کو ہر شر سے بچائے اور اگر کسی وقت اسے خطرہ ہو تو ہم سب احمدی ہوں یا غیر احمدی اس کی حفاظت کے لئے سچی قربانی کی توفیق بخشے۔اگر ظاہر مراد نہیں تو شاید اس رویا کی کوئی باطنی تعبیر ہو۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ الفضل 24 دسمبر 1952 ، صفحہ 2) 1956ء کا خواب: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے خواب دیکھا کہ جرمنی کے مبلغ کا ایک خط آیا ہے کہ جرمنی کا ایک بہت بڑا آدمی احمدی ہو گیا ہے۔بعد میں رویا میں ہی مجھے تار بھی آئی اور اس میں لکھا تھا کہ وہ احمدی ہو گیا ہے اور امید ہے کہ اس کے ذریعہ جرمنی میں جماعت کا اثر و رسوخ بڑھ جائے گا۔“ 2 ستمبر 1956ء کا خواب: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: الفضل 8 فروری 1957ء صفحہ 584) میں نے خواب میں دیکھا جیسے کوئی غیر مرئی وجود مجھے کہتا ہے (اغلبا فرشتہ ہی ہو گا) کہ: اللہ تعالی جو وقفہ وقفہ کے بعد جماعت میں فتنہ پیدا ہونے دیتا ہے تو اس کی یہ غرض ہے کہ وہ ظاہر کرے کہ جماعت کس طرح آپ کے پیچھے پیچھے چلتی ہے یا جب آپ کسی خاص طرف مڑیں تو وہ کس سرعت سے آپ کے ساتھ مڑتی ہے یا 313