مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 315
اس رویا میں بھی قادیان جانے کا ذکر ہے گو زیادہ تفصیلی نہیں۔رویا میں زیادہ تفصیل تھی مگر بہر حال یہ بھی ایک مبارک رؤیا ہے اور مسجد مبارک کا دیکھنا بھی اچھا ہے۔“ اگست 1957ء کا خواب: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: الفضل یکم فروری 1957ء صفحہ 3-2) ہو میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کی پیٹھ کے پیچھے ایک پہاڑی ٹیلہ ہے اس پر کچھ لوگ بیٹھے ہیں اور میں سمجھتا ہو کہ وہ لوگ پیغامی ہیں۔اس وقت میرے دل میں خیال گزرا کہ پیغامیوں کے لیے تو خدا نے شکست رکھی ہے یہ ٹیلہ پر کیوں بیٹھے ہیں؟ تب میں نے خلیفہ اول کو مخاطب کر کے یہی بات کہی کہ قرآن کے عین وسط میں تو لکھا ہے کہ مسیح موعود اور آپ کی سچی جماعت بہت اونچی جائے گی اور ٹیلہ پر تو پیغامی بیٹھے ہیں۔اس وقت خواب میں مجھے یہ یاد نہیں آیا کہ وسط قرآن میں کون سی سورتیں ہیں۔میں نے یوں ہی اشارہ بات کر دی۔اس پر خلیفہ اول نے کہا کہ میاں! تم نے ہی اس مسئلہ کے متعلق سوچا ہے تو تم ہی اس پر تقریر کرو۔اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔اور کئی دن میں سوچتا رہا کہ قرآن مجید کے وسط میں کون سا مضمون ہے جس سے میں نے استدلال کیا تھا لیکن خواب کا یہ حصہ ایسا بھولا کہ کسی طرح یاد نہ آتا تھا۔آخر ہیں دن کے بعد یہ خواب آئی اور میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ قرآن کے وسط میں سورۃ اسراء آتی ہے جس کے مضمون کے متعلق پرانے مفسرین کا خیال ہے کہ اس میں معراج کا ذکر ہے۔گو میں اس خیال سے متفق نہیں ہوں۔ہاں! یاد آیا کہ حضرت خلیفہ اول نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر بھی خواب میں کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی مخلص جماعت کے لیے اتنے اونچے جانے کی خبر دی گئی ہے یعنی آسمان تک بلند ہونے کی خبر ہے۔“ اکتوبر 1959ء کی رؤیا: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: الفضل 14 اگست 1957ء۔صفحہ 3) ” مجھے بھی ایک دفعہ خدا تعالیٰ کی طرف سے رویا میں دکھایا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ کا نور ایک سفید پانی کی شکل میں پھیلنا شروع ہوا ہے یہاں تک کہ پھیلتے پھیلتے وہ دنیا کے گوشے گوشے اور اس کے کونے کونے تک پہنچ گیا۔اس وقت میں نے بڑے زور سے کہا کہ احمدیوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتے ہوتے ایک زمانہ ایسا آئے گا۔انسان یہ نہیں کہے گا اے میرے ربّ! اے میرے ربّ!! تو نے مجھے کیوں پیاسا چھوڑ دیا؟ بلکہ وہ یہ کہے گا کہ اے میرے ربّ! اے میرے ربّ! تو نے مجھے سیراب کر دیا یہاں تک کہ تیرے فیضان کا پانی میرے دل کے کناروں سے اچھل کر بہنے لگا۔“ الفضل 28 اکتوبر 1959 ء۔صفحہ 4) ایک مبشر رویا: 315