مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 310
کہ سب لوگ قطاروں میں کھڑے ہیں اور میں اگلی صف میں ایک سرے پر ہوں مجھے وہاں سے ایک دو صفیں نظر آتی ہیں۔ایک ایک صف میں پندرہ ہیں آدمی ہیں اور وہ دس بارہ فٹ لمبی چلی جاتی ہے مگر سپاہیوں کی طرح نہیں کہ فاصلہ فاصلہ پر قطاریں ہوں بلکہ ایک قطار کے ساتھ دوسری اور دوسری کے ساتھ تیسری لگی ہوئی ہے اور میں پہلی صف کے سرے پر ایک طرف کھڑا ہوں جیسے افسر کھڑے ہوتے ہیں۔اس وقت کوئی شخص بعض الفاظ اپنی زبان سے نکالتا ہے مجھے اس کے سارے الفاظ تو یاد نہیں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے مارچ کا لفظ بولا جاتا ہے کہ وہ کہ رہا ہے یہ مارچ ہے حملہ کے لیے بھی اور فتح کے لیے بھی۔یعنی یہ لوگ جو مارچ کریں گے اس میں دشمن پر حملہ بھی ہو جائے گا اور فتح بھی ان کو حاصل ہو جائے گی۔مجھے اس کا اصل فقرہ بھول گیا مگر مفہوم یہی تھا کہ یہ فوج اب مارچ کرے گی اور اس کے دو کام ہوں گے اول دشمن پر حملہ کرے گی دوم حملہ کے ساتھ ہی اسے فتح حاصل ہو جائے گی۔“ پھر فرمایا: ”وہ لوگ جو قطاروں میں کھڑے ہیں جن کو میں فوج سمجھتا ہوں مگر ان سب کے کپڑے بالکل صاف اور ڈھلے ہوئے ہیں اس سے مجھے خیال پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں زمینداروں میں یہ رُوح پیدا کرنی چاہئے کہ ان کے کپڑے ہمیشہ صاف ستھرے ہونے چاہئیں کیونکہ رویا میں میں نے جتنے آدمی دیکھے ان کے کپڑے کو سادہ تھے مگرسب کے سب دھلے ہوئے اور صاف ستھرے تھے ظاہری نظافت بھی باطنی پاکیزگی کے لیے ایک ضروری چیز ہو کرتی ہے۔" مئی 1944ء کی رؤیا: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: الفضل 16 مئی 1944ء صفحہ 2) میں نے دیکھا کہ میں ایک جہاز میں ہوں یا ایک ایسی چیز میں ہوں جو (بحری) جہاز کی طرز پر ہے اور اس (بحری جہاز میں سے ساحل پر اُترا جیسے کوئی شخص قبر سے لوٹ کر واپس آتا ہے۔عرصہ کی بات ہے دس بارہ سال ہوئے میں نے ایک دفعہ ایک رؤیا میں دیکھا کہ ایک جہاز ہے جو مدرسہ احمدیہ کے صحن میں کھڑا ہے مدرسہ احمدیہ کا صحن لمبا سا ہے اور کچھ کمرے شمال کی طرف ہیں اور کچھ جنوبی طرف، میں نے رویا میں دیکھا کہ جنوبی طرف کے جو کمرے ہیں وہاں کمرے نہیں بلکہ ایک بڑا سا (بحری) جہاز کھڑا ہے اور مدرسہ احمدیہ کا محن ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے جہاز کا یارڈ ہوتا ہے، میں اس جہاز میں بیٹھنے کے لئے گیا ہوں میرے ساتھ کچھ اور دوست بھی ہیں۔چودھری ظفر اللہ خاں صاحب بھی میرے ساتھ ہیں۔ہم اس جہاز میں بیٹھ گئے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس جہاز میں بیٹھ کر ہم مدینہ منورہ جائیں گے۔ہم اس جہاز میں اپنا اسباب بھی رکھ رہے ہیں۔اور لوگ بھی اس میں بیٹھ رہے ہیں کہ اتنے میں میں نے حکم دیا ہے کہ ابھی سامان اُتار لو ابھی وقت نہیں آیا کہ مدینہ منورہ جائیں۔چنانچہ سب دوست اُتر آئے اور سامان بھی اُتار لیا گیا کیونکہ میں کہتا ہوں کہ ابھی وقت نہیں آیا کہ ہم مدینہ منورہ میں جائیں۔مدینہ جانے سے مراد کسی ایسے مقام کا میسر آجانا ہے جو احمدیت کے لیے اس کی ترقیات اور فتوحات اور کامیابیوں کا ذریعہ ہو جیسے مدینہ منورہ اسلام کی شان و شوکت کا مقام ثابت ہوا اور وہاں پہنچ کر اسلام بڑی سرعت سے چاروں طرف پھیلنا شروع ہوا۔پس جہاز کے ذریعہ واپس آنے کے 310