مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 309 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 309

(Parliments) بھی ملا دی جائیں اور خوراک کے ذخائر اور خزانہ کو بھی ایک ہی سمجھا جائے۔“ (لنڈن ٹائمنر مورخہ 18 جون 1940 ء) حضرت خلیفۃ لمسیح الثانی رضی اللہ عنہ اسی رؤیا کے بارے میں مزید فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ نے مجھے دوسری خبر یہ دی کہ یہ چھ مہینے کی بات ہے یعنی چھ ماہ کے بعد انگریزوں کی حالت بدل جائے گی۔چنانچہ عین چھ ماہ کے بعد 10 دسمبر اٹلی کو پہلی شکست ہوئی اور انگریزوں کی حالت میں تبدیلی پیدا ہونی شروع ہوئی۔“ 6/5 جنوری 1944 ء کی رؤیا: کی الموعود صفحه 132 تا 135) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ایک رؤیا جو کہ آپ رضی اللہ عنہ نے 6/5 جنوری 1944ء کو دیکھی یہ ایک لمبی رؤیا ہے جس حصے میں آپ نے اپنے مصلح موعود ہونے کا ذکر فرمایا ہے وہ درج ذیل ہے: الله جس وقت میں یہ تقریر کر رہا ہوں جو الہامی ہے) یوں معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کے وقت اللہ تعالیٰ نے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میری زبان سے بولنے کی توفیق دی ہے آپ صلی علیہ وسلم فرماتے ہیں: اَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصواۃ و السلام کے ذکر ایسا ہی ہوتا ہے اور آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: اَنَا الْمَسِيحُ الْمَوْعُود اس کے بعد ان کو اپنی طرف توجہ دلاتا ہوں۔چنانچہ اس وقت میری زبان پر جو فقرہ جاری ہوا یہ ہے وَاَنَا الْمَسِيحُ الْمَوْعُوْدُ مَثِيْلُهُ وَ خَلِيفَتُهُ اور میں بھی مسیح موعود ہوں یعنی اس کا مثیل اور اس کا خلیفہ ہوں۔تب خواب میں ہی مجھ پر ایک رعشہ کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے اور میں کہتا ہوں کہ میری زبان پر کیا جاری ہوا اور اس کا کیا مطلب ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اس وقت معاً میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اس کے آگے جو الفاظ ہیں مَشِيلُہ میں اس کا نظیر ہوں اور اس کا خلیفہ ہوں۔یہ الفاظ اس سوال کو حل کر دیتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کہ وہ حسن و احسان میں تیرا نظیر ہو گا اس کے مطابق اور اسے پورا کرنے کے لئے یہ فقرہ میری زبان پر جاری ہوا اور مطلب یہ ہے کہ اس کا مثیل ہونے اور اس کا خلیفہ ہونے کے لحاظ سے ایک رنگ میں بھی مسیح موعود ہوں کیونکہ جو کسی کا نظیر ہو گا اور اس کے اخلاق کو اپنے اندار لے لے گا وہ ایک رنگ میں اس کا نام پانے کا مستحق بھی ہو گا۔اس کے بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے 20 فروری 1944ء کو ہوشیار پور اور 12 مارچ1944 ء کو لاہور اور پھر مختلف جگہوں پر جلسوں میں اعلان فرمایا کہ حضور رضی اللہ عنہ ہی مصلح موعود ہوں۔تقریر جلسہ سالانہ 28 دسمبر 1944ء) 4 مئی 1944 ء کی رؤیا: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کل میں نے ایک چھوٹا سا نظارہ دیکھا جس کا کچھ حصہ یاد رہا اور کچھ حصہ بھول گیا یا شاید اتنا ہی نظارہ تھا۔مجھے رویا میں آدمیوں کی قطار نظر آئی جیسے فوج ہوتی ہے مجھے وہ ساری قطار نظر نہیں آتی مگر یوں معلوم ہوتا ہے 309