مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 311 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 311

ممکن ہے یہ معنی ہوں کہ آج سے دس بارہ سال پہلے جو خبر دی گئی تھی کہ ہم مدینہ منورہ جانے و والے ہیں وہ سفر اب طے ہو گیا ہے اور اللہ تعالیٰ احمدیت کو اپنے فضل سے ایسا مقام عطا کرنے والا ہے جو فتوحات اور کامیابیوں کا پیش خیمہ ہو گا۔اسی طرح یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس دوران میں جو ابتلا آئیں وہ بھی بعض کمزور طبائع کے لیے ٹھوکر کا موجب ہوتے ہیں اور بعض کے دلوں میں ان سے افسردگی بھی پیدا ہوتی ہے۔“ دو 21 اپریل 1949ء کو ہونے والا الہام: حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرمایا: (الفضل 6 جون 1944ء صفحہ 3) جلسہ کے اختتام کے بعد جس دن ہم ربوہ سے واپس چلے (یعنی 21 اپریل 1949ء بروز جمعرات) مجھے ایک الہام ہوا۔میں نے جس دن ربوہ سے واپس آنا تھا خاندان کی اکثر سواریاں ٹرین کے ذریعہ آئیں اور میں موٹر کے ذریعہ آیا، اس سے ایک تو پیسے کی بچت ہو گئی کیونکہ اگر میں موٹر میں نہ آتا تو موٹر نے خالی آنا تھا، دوسرے وقت کی بچت ہو گئی۔میں، تین چار مستورات اور دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے چند آدمی، ہم موٹر پر آئے اور باقی افراد ٹرین کے ذریعہ۔پہلے ٹرین لیٹ تھی اور اس کے آنے میں دیر ہوگئی اور یقین ہو گیا کہ یہ گاڑی لاہور کو جانے والی گاڑی کو نہیں پکڑ سکے گی اس لئے ہم نے سب سواریوں کو واپس بلالیا کہ سب کو لاریوں میں لے جائیں گے لیکن جب ٹرین آئی تو ایک انسپکٹر جو ساتھ تھا اس نے کہا کچھ ڈبے لاہور سے اگلے جنکشن آئے ہوئے ہیں اور آپ لوگوں کے لئے ریزرو (reserved) ہیں اس لئے انگلی گاڑی ان سواریوں کو لیے بغیر نہیں چلے گی۔اس اطلاع پر پھر سواریوں کو ٹرین کے ذریعہ بھیج دیا گیا۔جب ٹرین چلی تو معلوم ہو کہ ان کا کھانا رہ گیا ہے چنانچہ کھانا موٹر کے ذریعہ چنیوٹ بھجوایا گیا۔اب صورت یہ تھی کہ جب تک موٹر واپس نہ آئے میں لاہور نہیں آ سکتا تھا اس لئے میں لیٹ گیا اور مجھ پر ایک غنودگی سی طاری ہو گئی اس نیم غنودگی کی حالت میں میں نے دیکھا کہ میں خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے یہ شعر پڑھ رہا ہوں۔جاتے ہوئے حضور کی تقدیر نے جناب پاؤں کے نیچے سے میرے پانی بہا دیا کے پاؤں میں نے اسی حالت میں سوچنا شروع کیا کہ اس الہام میں جاتے ہوئے سے کیا مراد ہے؟ اس پر میں نے سمجھا کہ مراد یہ ہے کہ اس وقت تو پانی دستیاب نہیں ہو سکا لیکن جس طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام رگڑنے سے زمزم پھوٹ پڑا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ کوئی ایسی صورت پیدا کردے گا کہ جس سے ہمیں پانی وافر میسر آنے لگے گا۔اگر پانی پہلے ہی مل جاتا تو لوگ کہ دیتے کہ یہ وادی بے آب و گیاہ نہیں یہاں تو پانی موجود ہے۔پاؤں کے نیچے سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اسماعیل قرار دیا ہے جس طرح اسماعیل علیہ السلام کے پاؤں رگڑنے سے پانی یہ نکلا تھا اسی طرح یہاں خدا تعالیٰ میری دعاؤں کی وجہ سے پانی بہا دے گا، ” بہانے سے مطلب یہ ہے کہ پانی وافر ہو جائے گا۔“ الفضل 18 اگست 1949ء صفحہ 5) 26/27 مئی 1950ء کا خواب: 311