مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 300
ضرورت نہیں۔“ حروف مقطعات کا حل: (حیات نور صفحہ نمبر 57 و مرقاة الیقین صفحه 122) 66 دوران قیام ریاست کشمیر حضرت خلیفتہ المسح الاول رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ رؤیا دیکھا کہ آپ کے ایک پیر بھائی (یعنی شاہ عبدالغنی صاحب کے مرید ) مولوی عبد القدوس صاحب جو آپ کے مکان پر ترمذی شریف کا سبق پڑھنے آتے تھے ان کی گود میں کئی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جنہیں آپ نے جھپٹا مار کر چھین لیا ہے اور اپنی گود میں لے کر وہاں سے چل پڑے ہیں رستے میں حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ نے ان بچوں سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ تو انہوں نے بتایا کہ ہمارا نام ” کھیعص “ ہے۔اس خواب کی تعبیر حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ کی سمجھ میں نہیں آتی تھی جب حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تو حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ نے اس خواب کی تعبیر پوچھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ کو اس کا علم دیا جائے گا اور یہ کہ ان بچوں سے مراد فرشتے تھے۔اس رؤیا کے ایک مدت یعنی 1903 ء میں جب دھرم پال نے اسلام کے خلاف ترک اسلام نامی ایک کتاب لکھی تو اس سے بہت پہلے حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ کو خواب میں بتایا گیا تھا کہ اگر کوئی منکر قرآن آپ سے کسی ایسی آیت کا مطلب پوچھے جس سے آپ ناواقف ہوں تو اس کا علم ہم تمہیں دیں گے۔چنانچہ ترک اسلام کا جواب لکھتے ہوئے جب حروف مقطعات کی بحث کا موقع آیا تو ایک روز مغرب کی نماز میں دو سجدوں کے درمیان حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا ہی خیال کیا کہ مولا! یہ منکر قرآن حروف مقطعات پر سوال کرتا ہے تو ہی ان کا علم مجھے عطا فرما۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسی وقت یعنی دو سجدوں کے درمیان قلیل عرصہ میں مجھ کو مقطعات کا وسیع علم دیا گیا جس کا ایک شمہ میں نے رسالہ نورالدین میں مقطعات کے جواب میں لکھا ہے اور اس کو لکھ کر میں خود بھی حیران ہو گیا۔“ احادیث پر عمل کرنا ہی حدیثیں کے یا دکرنے کا حقیقی ذریعہ ہے: ایسا ہی جموں میں ایک اور خواب حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ جلا کا کے محلہ میں ٹھٹیروں کی دکان کے پاس جو مندر ہے اس مندر کے سامنے ایک پرچون کی دکان ہے جہاں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں۔حضرت خلیفة امسیح الاول رضی اللہ عنہ کو وہاں سے گزرتے دیکھ کر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم آٹا ہمارے یہاں سے لے جاؤ۔یہ فرما کر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی کے ترازو میں آٹا تولا جو بظاہر ایک آدمی کی خوراک کے برابر تھا۔جب حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ آٹا اپنے دامن میں لے چکے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ حضرت! کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو کوئی ایسی بات بتائی تھی جس سے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں یاد رکھتے تھے؟ فرمایا: ہاں! حضرت خلیفہ ایچ الاول رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ وہ بات مجھے بھی بتادیجئے تاکہ میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں یاد کر لوں۔فرمایا: اپنا کان میری طرف کرو۔جب حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے اپنا کان نزدیک کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرمانا چاہتے ہی تھے کہ خلیفہ نورالدین رضی اللہ عنہ نے حضرت خلیفۃ ابیح الاول رضی اللہ عنہ کے پاؤں کو زور سے دبایا اور کہا کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔نورالدین کے نماز کے لئے اُٹھانے سے حضرت خليفة أسبح الاول رضی اللہ عنہ نے اس خواب کی یہ تعبیر کی کہ احادیث پر عمل کرنا ہی حدیثوں کے یاد کرنے کا ذریعہ ہے کیونکہ 300