مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 301 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 301

اٹھانے والا بھی خواب کا فرشتہ ہی ہوتا ہے۔“ خوشخبری حضرت طلیقہ اسح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (حیات نور صفحہ 126 تا 127) میں اپنی جان و دل سے شہادت دیتا ہوں کہ اپنی آنکھ سے فرشتوں کو دیکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔ان کی محبت و احسان کو اپنی آنکھ سے دیکھا اور اپنے کانوں سے انہیں یہ کہتے سنا کہ نَحْنُ اَولِیتُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ هُم دنیا میں تمہارے دوست ہیں۔“ استغفار اور لاحول: (الحكم 21 جولائی 1912ء ص3) کتاب نورالدین کے سرورق پر حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے اَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهُ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهُ، وَلَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّتَ إِلَّا بِاللهِ کے الفاظ لکھے۔ان الفاظ میں دراصل ایک روحانی نظارہ کی طرف اشارہ تھا جو حضرت خلیفۃ اصبح الاول رضی اللہ عنہ کو انہی دنوں دکھایا گیا تھا۔حضرت خلیفۃ ابیح الاول رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ہندوؤں کے گھر میں شادی کے بعد ایک مندر کی طرف لے جائے گئے ہیں جس میں دو بڑے بڑے بت ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ کی موحدانہ طبیعت میں جوش آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے استغفار پڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ ایک (بت) اپنے آپ گر گیا۔پھر آپ رضی اللہ عنہ دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے اور بہت استغفار پڑھا مگر دوسرا بت جوں کا توں موجود تھا۔تب حضرت خلیفۃ اسیح الاول رضی اللہ عنہ کو تحریک ہوئی کہ یہاں لا حول کے تیر سے کام لینا چاہئے۔چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّتَ إِلَّا بِاللهِ پڑھاتو بت پاش پاش ہو گیا اس کی تفہیم یہ ہوئی کہ ”نورالدین کی اشاعت کے بعد دھرم پال کا فتنہ آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں مٹایا جائے گا اور دوسرا کام خدا تعالیٰ اپنی قدرت سے کر دے گا۔چنانچہ وہ دھرم پال جو اسلام کو دنیا سے نعوذ باللہ سب سے برا مذہب قرار دیتا تھا نئے سرے سے اسلام کی تعریف سے رطب اللسان ہو گیا اور اسلام کے خلاف لکھی ہوئی کتابیں اپنے ہاتھ سے جلا (الفضل 22 مئی 1912ء) دیں۔نصیر الدین نامی لڑکا: نصیر الدین صاحب حال مانسہرہ ضلع ہزارہ کا بیان ہے کہ ان کے والد عمر دین صاحب کے ہاں میں سال اولاد نہیں تھی۔مولوی محمد ریٹی دیپ گراں نے حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں دعا کی درخواست کی حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ کو کشف میں ایک لڑکا نصیر الدین نامی دکھایا گیا۔چنانچہ سات ماہ بعد ان کی پیدائش ہوئی اور کشف کی بنا پر ان کا نام نصیر الدین رکھا گیا۔روزنامه الفضل ربوه 22 مئی 1999ء ص 8) 301