مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 299 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 299

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص رویائے صالحہ پر ایمان نہیں رکھتا وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔“ استعداد رکھتا رؤیا و کشوف کی اہمیت از حضرت مسیح موعود علیہ السلام : ( تعطیر الانام جلد 1 صفحہ 2 عبدالغنی نابلسی) حضرت مسیح موعود علیہ السلام رؤیا اور کشوف کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”جب دنیا میں کوئی امام الزمان آتا ہے تو ہزار ہا انوار اس کے ساتھ آتے ہیں اور آسمان میں ایک صورت انبساطی پیدا ہو جاتی ہے اور انتشار روحانیت اور نورانیت ہو کر نیک استعداد میں جاگ اٹھتی ہیں۔پس جو شخص الہام کی استعداد رکھتا ہے اس کو سلسلہ الہام شروع ہو جاتا ہے اور جو شخص فکر اور غور کے ذریعہ سے تفقہ کی ہے اس کے تدبر اور سوچنے کی قوت کو زیادہ کیا جاتا ہے اور جس کو عبادات کی طرف رغبت ہو اس کو تعبد اور پرستش میں لذت عطا کی جاتی ہے اور جو شخص غیر قوموں کے ساتھ مباحثات کرتا ہے اس کو استدلال اور اتمام حجت کی طاقت بخشی جاتی ہے اور یہ تمام باتیں در حقیقت اسی انتشار روحانیت کا نتیجہ ہوتا ہے جو امام الزمان کے ساتھ آسمان سے اُترتی اور ہر ایک مستعد کے دل پر نازل ہوتی ہے اور یہ ایک عام قانون سنت الہی ہے جو ہمیں قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کی رہنمائی سے معلوم ہوا اور ذاتی تجارب نے اس کا مشاہدہ کرایا ہے مگر مسیح موعود کے زمانہ کو اس سے بھی بڑھ کر ایک خصوصیت ہے اور وہ یہ ہ پہلے نبیوں کی کتابوں اور احا دیث نبویہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت یہ انتشار نورانیت اس حس تک ہو گا کہ عورتوں کو بھی الہام شروع ہو جائے گا اور نابالغ بچے نبوت کریں گے اور عوام الناس روح القدس سے بولیں گے اور یہ سب کچھ مسیح موعود کی روحانیت کا پرتو ہو گا۔“ ( ضرورت الامام۔روحانی خزائن جلد 13 ص474) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی بعثت کے ساتھ پیشگوئیوں کے مطابق وہ دروازہ پھر کھولا گیا جس کو لوگ بند کئے بیٹھے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی پیروی کرنے والوں کیلئے خاص طور پر سچے رؤیا، کشوف اور الہامات کا انعام جاری کیا گیا۔ذیل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے خلفا کے رؤیا و کشوف اور الہامات درج کئے جاتے ہیں۔ا رؤیا و کشوف حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ: اللہ تعالیٰ کا معاملہ بھی اپنے پیاروں کے ساتھ کیا عجیب ہوتا ہے۔ایک مرتبہ آپ نے رویا میں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا کہ: تمہارا کھانا تو ہمارے گھر میں ہے لیکن نبی بخش کا ہم کو بہت فکر ہے۔“ (حیات نور صفحہ نمبر 57 و مرقاة الیقین صفحه 122) اس رؤیا کے بعد حضرت خلیفہ صیح الاول رضی اللہ عنہ نے نبی بخش کو بہت تلاش کیا مگر وہ نہ مل سکے۔بہت دنوں کے بعد جب ملاقات ہوئی تو ان سے پوچھا کہ: آپ کو کوئی تکلیف ہو تو بتائیں اور ضرورت ہو تو میں آپ کو کچھ دام دے دیں؟ کہا کہ مجھ کو بہت شدت کی تکلیف تھی مگر آج مجھ کو چونہ اٹھانے کی مزدوری مل گئی ہے اور پیسے مزدوری کے ہاتھ آ گئے ہیں اس لئے 299