مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 275 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 275

4 جون کو حضور انور رضی اللہ عنہ مع اہل بیت کنری تشریف سے گئے۔اسی روز شام کو حضور رضی اللہ عنہ کنری سے روانہ ہو کر محمود آباد سٹیٹ تشریف لائے اور دو روز تک محمود آباد سٹیٹ کا معائنہ فرمایا۔10 جون کو حضور رضی اللہ عنہ نے نا سازی طبع کے باوجود نماز جنازہ خود پڑھائی اور سندھی سیکھنے اور بولنے کی پر زور تحریک فرمائی۔احمد آباد میں حضور رضی اللہ عنہ نے دو بستیاں آباد کرنے اور ان کے نام مہدی آباد اور مسیح آبادرکھنے کا ارشاد فرمایا۔کوئٹہ میں ورود مسعود: حضرت امیر المؤمنين المصلح الموعود رضی اللہ عنہ قریباً ایک ماہ تک سندھ کی احمدی اسٹیٹ کا وسیع پیمانے پر دورہ و معائنہ کرنے اپنے خدام اور کارکنان کو قیمتی ہدایات سے نواز نے اور خطبات جمعہ کے ذریعہ می ہدایات سے نواز نے اور خطبات جمعہ کے ذریعہ مخلصین جماعت کے اندر فکر و عمل کی نئی قوت بھرنے کے بعد مع اہل بیت و خدام 21 احسان جون کو ایک بجے بعد دوپہر کنجیجی سے روانہ ہوئے اور اگلے روز 22 احسان/ جون کو چار بجے کے قریب بخریت کوئٹہ پہنچے اسٹیشن پر مخلصین کوئٹہ اپنے امیر میاں بشیر احمد صاحب کے ہمراہ بھاری تعداد میں اپنے مقدس و محبوب آقا کی پیشوائی کے لئے حاضر تھے۔حضور رضی اللہ عنہ نے سب کو شرف مصافحہ بخشا اور پھر مع اہل بیت کاروں کے ذریعہ سے (جن کا اہتمام مقامی جماعت نے کیا تھا ) اپنی قیام گاہ واقع پارک ہاؤس (York House) میں تشریف لائے۔قیام کوئٹہ کے اکثر و بیشتر ایام میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی طبیعت سخت علیل رہی حضرت مسیح علیہ السلام کا قول ہے روح تو مستعد ہے مگر جسم کمزور ہے یہی کیفیت حضور پر نور رضی اللہ عنہ کی تھی جو نہی بیماری کے حملہ میں معمولی سا افاقہ محسوس فرماتے حضور رضی اللہ عنہ کی دینی مصروفیات میں ایسی نمایاں تیزی اور غیر معمولی سرگرمی پیدا ہو جاتی کہ دیکھنے والا ورطہ حیرت میں پڑ جاتا۔26 جولائی 1949ء بمطابق 29 رمضان المبارک کو حضور رضی اللہ عنہ نے اعلان رمضان کی برکات سے متعلق بصیرت افروز خطاب فرمایا اور اجتماعی دعا کی۔29 جولائی 1949 ء کو حضور رضی اللہ عنہ نے پارک ہاؤس میں ایک نہایت اہم پیلک لیکچر (Public Lecture) دیا جس میں آپ رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کا اردو ترجمہ سیکھنے کی پُر زور تحریک فرمائی اخبار پکار کوئٹہ نے اپنے 13 اگست 1949 ء کے ایشو میں اس تقریر کا مندرجہ ذیل مخلص شائع کیا: کوئٹہ 29 جولائی آج شام سات بجے یارک ہاؤس لٹن روڈ میں امیر جماعت احمدیہ نے ایک تقریر کرتے ہوئے اس بات زور دیا کہ لوگوں کو اردو بولنا چاہئے انہوں نے حاضرین جن میں اکثریت جماعت احمدیہ کے ممبروں کی تھی پر زور دیا کہ وہ پنجابی زبان کو ختم کر دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ایک کو چاہئے کہ وہ قرآن کریم کا کم از کم اردو ترجمہ ضرور یاد کریں۔اس تقریر میں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہ ایک دفعہ میرے پاس دیو بند کے دو مولوی آئے اور مجھے کہا کہ آپ کیا پڑھے ہوئے ہیں؟ میں نے ان کو جواب دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی قرآن پڑھے ہوئے تھے, میں بھی قرآن پڑھا ہو ہوں۔مرزا صاحب نے تقریباً بیس منٹ تقریر کی اور اس کے بعد متعدد شہریوں او نمائندگان پریس سے ملے اور اپنی قیام گاہ میں تشریف لے گئے۔(نامہ نگار ) چھ بجے شام جماعت احمدیہ کوئٹہ کے زیر انتظام پارک ہاؤس (York House) کے احاطہ میں ایک شاندار جلسہ منعقد ہوا جس میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اسلام اور موجودہ مغربی نظریے کے موضوع پر ایک فکر انگیز خطاب فرمایا۔21 اگست تاریخ احمدیت جلد 13 صفحہ 249 تا 258) 275