مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 276 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 276

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا سفر دیلی: 21 ستمبر 1946 ء کو حضور ( حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ) اپنے مشہور سفر دہلی پر تشریف لے گئے، یہ وہی سفر ہے جس میں حضور ( حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ) کی غیر معمولی دعاؤں اور کوششوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل قیام پاکستان کے سلسلہ میں پیش آنے والی بڑی بڑی روکیں دور ہوئیں۔جماعت نے بھی اس بابرکت موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، مجالس علم و عرفان منعقد ہوتی رہیں، مسجد احمد یہ دریا کنج میں تین خطبات ارشاد فرمائے، 29 ستمبر کو خدام الاحمدیہ اور یکم اکتوبر کو خواتین سے خطاب فرمایا، 9اکتوبر کو اسلام دنیا کی موجودہ بے چینی کا کیا اعلاج پیش کرتا ہے“ کے موضوع پر تقریر فرمائی، 10 اکتوبر کو مشہور ادیب، صحافی خواجہ حسن نظامی صاحب جو اپنا وسیع حلقہ ارادت رکھتے ہیں سے ملاقات ہوئی۔محترم خواجہ صاحب اس ملاقات کا بڑے اچھے رنگ میں ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: آج شام کو نئی دہلی میں چودھری سر ظفر اللہ خان صاحب کے مکان پر جناب مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ جماعت احمدیہ سے ملنے گیا تھا، ڈیڑھ گھنٹہ تک باتیں کیں، ان کو مسلمان قوم کے ساتھ جو مخلصانہ ہمدردی سے وہ سن کر میرے دل پر بہت اثر ہوا اور میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ آج ایک ایسے لیڈر سے ملاقات ہوئی جس کو میں نے بے غرض، مخلص سمجھا ورنہ جو لیڈر ملتا ہے کسی نہ کسی غرض میں مبتلا نظر آتا ہے، مرزا صاحب مخلص بھی ہیں، دانش مند بھی ہیں، دور اندیش بھی ہیں اور بہادرانہ جوش بھی رکھتے ہیں۔“ (منادی 24 اکتوبر 1946ء۔بحوالہ الفضل 8 نومبر 1946ء صفحہ 2) دہلی سے واپسی پر اپنے الوداعی خطاب میں تبلیغی فرائض کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہندوستان مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا مولد ہے اس لئے بھی اور اس لئے بھی کہ دہلی ہندوستان کا صدر مقام ہے۔دہلی والوں پر خاص کر بہت زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ہندوستان میں اس وقت چالیس کروڑ آدمی بستے ہیں، ان میں سے دس کروڑ مسلمان ہیں گویا 1/4 حصہ آبادی کو حضرت معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ اور قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے بزرگان نے مسلمان کیا۔اب تمہارے لئے موقع ہے کہ اس کام کو سنبھال لو، تین چوتھائی کام تمہارے حصہ میں آیا ہے اس کا پورا کرنا تمہارے ذمہ ہے۔خدا تعالیٰ مجھ کو اور تم کو اس فرض کے ادا کرنے کی توفیق بخشے۔وَاخِرُ دَعْــوانــا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے سفر یورپ (Europe): پہلا سفر : الفضل16۔نومبر 1946ء صفحہ 8) جولائی 1924 ء کو حضور انور رضی اللہ عنہ اپنے رفقا کے ساتھ یورپ کے سفر پر روانہ ہوئے۔اس سفر کا مقصد لندن (London) کی مشہور ویمبلے کا نفرنس (Wambley Conference) میں شرکت تھی جس میں مختلف مکاتیب فکر کے اہل علم حضرات کو اپنے مذہب کی حقانیت بیان کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔جس دن حضور رضی اللہ عنہ سفر یورپ کے لئے روانہ ہوئے برطانوی پریس نے آپ رضی اللہ عنہ کی آمد کی خبریں اس قدر کثرت سے شائع کیں کہ ایک متعصب رومن کیتھولک Roman) (Catholic اخبار کو لکھنا پڑا کہ تمام برطانوی پریس سازش کا شکار ہو گیا ہے۔276