مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 274
موعود رضی اللہ عنہ کے زندہ نشان کے اعلان اور اہل ہندوستان پر اتمام حجت کے لئے چوتھا اور آخری جلسہ عام ہندوستان کے دارالسلطنت دہلی میں 16 اپریل 1944ء کو منعقد ہوا۔پنجاب، یوپی، نواح دہلی اور حیدر آباد دکن تک سے قریباً پانچ ہزار احمدی اس مقدس اجتماع میں شامل ہوئے۔جلسہ مصلح موعود کی خبر ملتے ہی دہلی میں اشتعال انگیز تقاریر اور اشتہارات کا ایک باقاعدہ سلسلہ جاری کر دیا گیا اور عوام کو ہر طرح سے مشتعل کر کے ہر صورت جلسہ درہم برہم کرنے کی تلقین کی گئی اور جگہ جگہ کھلے لفظوں میں اعلان کیا گیا کہ ہم خون کی ندیاں بہا دیں گے مگر قادیانیوں کا جلسہ نہیں ہونے دیں گے۔میل حصہ حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ جلسہ میں شمولیت فرمانے کے لئے 16 اپریل 1944ء کی صبح 9 بجے فرنٹر ، دہلی پہنچے جہاں حضور رضی اللہ عنہ کا استقبال احمدیوں کے ایک مجمع نے کیا۔ٹھیک ساڑھے چار بجے باقاعدہ جلسہ کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔حسب سابق صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے تلاوت کی۔تلاوت کے شروع میں ہی ایک شورش پسند طبقہ نے جو جلسہ کو درہم برہم کرنے آیا تھا اور بڑے دروازہ کے سامنے کھڑا تھا گالیاں دیتے اور شور مچاتے ہوئے مداخلت شروع کر دی جب ان لوگوں کو جلسہ گاہ سے باہر نکال دیا گیا تو سات آٹھ ہزار کا ایک بڑا ہجوم جلسہ گاہ کے ارد گرد جمع ہو گیا۔جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنی نہایت ایمان افروز تقریر شروع فرمائی تو شورو شر پیدا کر نے والے ہجوم کا ایک۔دوبارہ گالیاں دیتا اور شور کرتا ہوا سٹیج پر حملہ کی نیت سے آگے بڑھا جسے احمدیوں نے روک دیا اور تقریر جاری رہی اس پر پنڈال سے باہر مشتعل ہجوم نے جلسہ گاہ پر پتھر پھینکنے شروع کر دیئے بعد میں یہ مشتعل ہجوم مستورات کی جلسہ گا ہ کی طرف بڑھا جس پر حضور رضی اللہ عنہ نے ایک سو احمدیوں کو زنانہ جلسہ گاہ کی طرف بھجوا دیا۔حضور انور رضی اللہ عنہ کا جلسہ سے خطاب قریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا اس جلسہ میں شرکت کرنے والے کئی احمدیوں کو شر پسندوں کی طرف سے کی جانے والی سنگ باری سے شدید چوٹیں آئیں اور وہ لہو لہان ہو گئے ان میں حضور رضی اللہ عنہ کے داماد میاں عبدالرحیم صاحب بھی تھے جنہیں سخت چوٹیں آئیں اور وہ بے ہوش ہو کر گر گئے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا سفر سندھ و کوئٹہ : تاریخ احمدیت جلد 9 صفحہ 609-614) سال (1949ء) کی دوسری ششماہی کا قابل ذکر اور اہم واقعہ سیدنا حضرت خلیفة لمسیح الثانی امیر المؤمنين المصلح الموعود رضی اللہ عنہ کا سفر سندھ و کوئٹہ ہے۔حضور رضی اللہ عنہ 12 ماہ ہجرت مئی کو لاہور سے سندھ کے لئے مع اہل بیت و خدام روانہ ہوئے اور ساڑھے چار ماہ کے بعد تبوک ستمبر کو کوئٹہ سے روانہ ہو کر 5 تبوک ستمبر کو واپس لاہور تشریف لے آئے۔روانگی اس سفر میں پچاس نفوس پر من پر مشتمل قافلہ حضور رضی اللہ عنہ کے ہمرکاب تھا جو روہڑی سے دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔حضور امیرالمؤمنین رضی اللہ عنہ اور اہل بیت میں سے حضور سیدہ اُم متین حرم ثالث اور حضرت سیدہ بشری بیگم صاحبہ حرم رابع اور حضور رضی اللہ عنہ کے بعض صاحبزادے اور صاحبزادیاں اور بعض خدام مثلاً حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب طبی مشیر اور چودھری سلطان احمد صاحب سپرنٹنڈنٹ اور شیخ نور الحق صاحب سپرنٹنڈنٹ ایم این سنڈیکیٹ اپنے ضروری ریکارڈ کے ساتھ سندھ تشریف لے گئے اور حضرت اُمّ المؤمنین حضرت سیدہ اُمّم ناصر حرم اوّل حضرت سیدہ اُمّم وسیم حرم ثانی و صاحبزادی امتہ العزیز صاحبہ اور میاں محمد یوسف صاحب پرائیویٹ سیکرٹری اور مولوی محمد یعقوب صاحب طاہر انچارج شعبہ زود نویسی کوئٹہ کی طرف روانہ ہوئے۔274