مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 259
ہے حضرت محمد مصطفی ملالہ کے غلام کی طرف ہوگئی ہے۔یہ شان ہے جماعت احمدیہ کی قربانی کی اور عظمت مسیح موعود کے دعاوی کی سچائی کی۔پس ان حملوں میں بھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر رحمت اور پر درود کے گلدستے دیکھتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جب صدیوں کی تاریکیاں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ حملے رہی تھیں، وہ تیر جو ہمارے آقا و مولیٰ سید ولد آدم کی ذات اقدس کی طرف چلائے جاتے تھے، وہ گند جو پر اچھالا جاتا تھا خدا کی قسم! خدا کی تقدیر ان چیزوں کو پھولوں اور رحمتوں اور درود اور صلوٰۃ میں تبدیل فرما دیا کرتی تھی۔جتنی گالیاں خدا کے نام پر آپ کو دی گئیں اس سے لاکھوں کروڑوں گنا زیادہ رحمتیں آسمان سے آپ نازل ہوتی رہیں پس مبارک ہو تمہیں جو اس مجاہد اعظم کی غلامی کا دم بھرتے ہو جس نے حضرت محمد مصطفی ملالہ پر کئے جانے والے سارے حملوں کو اپنی چھاتی پر لے لیا اور اس بات کی قطعاً پرواہ نہیں کی کہ اس کے نتیجہ میں آپ کی ذات پر کیا گزرتی ہے۔“ ( زهق الباطل۔خطبه جمعه فرمودہ حضرت خلیفة لمسح الرابع رحمہ اللہ تعالی 5 اپریل 1985 ء ) الله " حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میرا یہ عقیدہ ہے کہ خاتم النبین کا ایک معنی یہ ہے کہ ہر حسن حضرت محمد مصطفی حلقہ پر ختم ہو گیا۔۔۔۔خدا کا حسن نبیوں کی صورت میں جو چپکا ہے ان سب کا مجمع ان سب کو اکٹھا کرنے والا ان سب کا خاتم حضرت محمد مصطفیٰ صل اللہ تھے۔جس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ حسن ختم اس طرح کر لیا جس طرح سیاہی چوس“ سیاہی چوس جاتا ہے بلکہ اس طرح حسن ختم کیا ہے جس طرح سورج سب روشنی کا منبع بن جاتا ہے اور ہر چیز میں اس کی جھلک پیدا ہوتی ہے۔جتنی زیادہ ہو اتنا وہ زیادہ چمکتا ہے۔تو اصل میں کسی کی سیرت سے پیار اس رنگ میں چاہیے مسلمان کو کہ جہاں جہاں وہ رسول اکرم صلی اللہ کی تھوڑی تھوڑی جھلکیاں دیکھے اس وجہ سے کرے کہ یہ میرے محبوب کی جھلکی ہے اور وہ پیار جو ہے وہ عبادت بن جائے گا۔پھر اس پیار میں خدا کی رضا شامل ہو جائے گی۔وہاں نہ ٹھہریں بلکہ پیچھے چلے جائیں، پیچھے جا کے اس کا جو سرچشمہ ہے اس پر نظر ڈالیں تو وہ سرچشمہ آپ کو حضرت محمد مصطفی مطلقہ کی ذات نظر آئے گی اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔یہ وہ ایسی چیز ہے جس میں کوئی شاعر بھی دنیا کا مبالغہ نہیں کرسکتا۔بالکل حقیقت ہے اور پھر اس سے پرے خدا کی ذات کرنا ا پیار دکھائی دیتی ہے۔یہ ہے خلاصہ خاتمیت کا جس پر ہمارا سارا ایمان سرسے پاؤں تک سارے وجود کا ایمان ہے اور اسی میں حقیقت ہے اور اس پر چونکہ آپ شاعر ہیں مجھے ایک غالب کا شعر یاد آگیا اس مضمون سے ملتا جلتا وہ یہ ہے کہ ہے پرے سرحد اوراک سے اپنا مسجود قبلے کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں والے سمجھتے ہیں اس قبلے کی طرف رُخ ہے، ہم اسے قبلہ نما سمجھ رہے ہیں یعنی خدا کی طرف رخ کرنے والا تو اس لئے آخری بات یہی ہے کہ ہر حسن کا رخ حضرت محمد مصطفی حلقہ کی طرف اور رسول اللہ حلقہ کے حسن کا سارا رخ اپنے خدا کی طرف ہے۔اس حقیقت کو سمجھ کر جب آپ کسی انسان کی بھی مدح کہیں گے تو اس میں ایک پاکیزگی پیدا ہو جائے گی اور اللہ کی رضا داخل ہو جائے گی۔“ الله مجلس سوال و جواب 15 فروری 1987 ء ) 259