مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 258
قبولیت دعا: حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں: ہو ” مجھے یاد ہے گھانا میں ایک چیف کو میرے ہاتھ پر قبول حق کی توفیق ملی اس سے پہلے وہ مذہباً عیسائی تھے نرینہ اولاد کی حسرت لئے دل میں پھرتے تھے۔دو مرتبہ ان کی اہلیہ کا حمل ضائع ہو چکا تھا اور اب وہ مایوس و چکے تھے انہوں نے مجھے دعا کے لئے کہا۔کہنے لگے کہ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے بیٹا دے اور میری اہلیہ بھی صحت و عافیت اور خیریت سے رہے۔میں نے چیف اور اس کی بیگم کے لئے بڑے تضرع اور درد سے دعا کی اور انہیں لکھا کہ اللہ تعالیٰ میری اور ان کی دعاؤں کو ضرور شرف قبولیت بخشے گا۔کچھ مدت کے بعد ان کی اطلاع ملی کہ خدا تعالیٰ نے دعائیں سن لی ہیں اور انہیں ایک صحتمند بیٹے سے نوازا ہے۔“ وو ایک مرد خدا۔مترجم مکرم چودھری محمد علی صاحب صفحہ 352) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ قبولیت دعا کا ایک اور واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں؟ غانین خاتون لکھتی ہیں! میری اولاد پیدائش کے دو ہفتہ کے اندر اندر فوت ہو جاتی تھی میں نے آپ کو دعا کے لئے خط لکھا اور مجھے یہ عجیب جواب ملا کہ بچے کا نام امتہ ائی رکھنا“ جو کہ بیٹی کا نام ہے۔میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا نشان دیکھ کر حیران رہ گئی خدا نے مجھے بیٹی عطا فرمائی جس کا نام میں نے امتہ ابھی رکھا۔ایک سال ہو چکا ہے اور خدا کے فضل سے صحت مند اور ہشاش بشاش ہے۔“ (ضمیمہ خالد جولائی 1987 ءصفحہ 10 ) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں۔نائیجیریا سے سیف اللہ چیمہ تحریر فرماتے ہیں کہ گزشتہ مرتبہ جب میں آپ سے ملنے آیا میری بیوی بھی ساتھ ہم نے ذکر کیا کہ ہماری شادی پر عرصہ گزر گیا ہے اور کوئی اولاد نہیں اس وقت آپ نے بے اختیار یہ فقرہ کہا ”بشری بیٹی آئندہ جب آؤ تو بیٹا لے کر آنا وہ کہتے ہیں آپ کو یہ خوشخبری دے رہا ہوں کہ اب جب ہم آپ سے ملنے آئیں گے تو بیٹا لے کر آئیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ وہ بیٹا عطا فرما چکا ہے؟“ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم: لم حضرت خلیفة أصبح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: حقیقت (ضمیمہ خالد جولائی 1987 ، صفحہ 10 ) صلى الله یہ ہے کہ اس ساری صورتحال میں جماعت احمدیہ کے لئے حمد اور اطمینان کا ایک پہلو بھی ہے اور وہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد تک دنیا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ پر گندے حملے کیا کرتی تھی ایسے میں قادیان سے ایک پہلوان اٹھا اور حضرت محمد مصطفیٰ صل اللہ کے عشق میں دیوانہ تھا اس نے آنحضور پر ہونے والے حملوں کا اس شدت سے دفاع کیا اور دشمنان اسلام پر ایسے سخت حملے کئے کہ دشمنوں کی توجہ آپ کی طرف سے ہٹ گئی نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تیر جو ہمارے آقا و مولا حضرت اقدس محمد مصطفی ملاقہ پر چلا کرتے تھے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے سینے پر لے لئے اور اس وقت سے آج تک تمام دشمنان اسلام نے حضرت محمد مصطفی ملاقہ کے متعلق خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور سب کی توجہ ہمارے آقا 258