مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 249 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 249

مگر ان کے لئے نہیں ہے۔تمہارا اسے فکر ہے، درد ہے اور وہ تمہار ہے، درد ہے اور وہ تمہارے لئے اپنے مولیٰ کے حضور تڑپتا رہتا ہے لیکن ان کے لئے ایسا کوئی نہیں ہے۔کسی کا اگر ایک بیمار ہو تو اس کو چین نہیں آتا لیکن کیا تم ایسے انسان کی حالت کا اندازہ کر سکتے ہو جس کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بیمار ہوں۔پس تمہاری آزادی میں تو کوئی فرق نہیں آیا ہاں تمہارے لئے ایک تم جیسے ہی آزاد پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہو گئی ہیں۔“ (برکات خلافت انوار العلوم جلد 2 صفحہ 156 ) حضرت خلیفہ لمسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے مجھے ایک ایسی جماعت کا انتظام سپر د کیا ہے جس کی نسبت اگر میں یہ کہوں کہ وہ میری آواز پر کان نہیں رکھتی تو یہ ایک سخت ناشکری ہوگی۔میری بات کی طرف توجہ کرنا تو ایک چھوٹی سی بات ہے میں دیکھتا ہوں کہ بہت ہیں جو میرے اشارے پر اپنی جان اور اپنا مال اور اپنی ہر عزیز چیز کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔والحمد للہ علی ذالک۔اور اس اخلاص بھری جماعت کو مخاطب کرتے وقت میرا دل اس یقین سے پر ہے کہ وہ فوراً اس نقص کو رفع کرنے کی کوشش کرے گی۔جس کی طرف میں نے ان کو متوجہ کیا (سوانح فضل عمر جلد 2 صفحہ 85 ) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” مجھے ہمیشہ حیرت ہوا کرتی ہے اور میں اپنے دل میں کہا کرتا ہوں کہ الہی! تیری بھی عجیب قدرت ہے کہ تو نے کس طرح لوگوں کے دلوں میں میری نسبت محبت کے جذبات پیدا کر دئیے کہ جب کبھی سفر میں باہر جانے کا موقع ملے اور میں گھوڑے پر سوار ہوں تو ایک نہ ایک نوجوان حفاظت اور خدمت کے خیال سے میرے گھوڑے کے ساتھ پیدل چلتا چلا جاتا ہے اور جب میں گھوڑے سے اُترتا ہوں تو وہ فوراً آگے بڑھ کر میرے پاؤں دبانے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے حضور تھک گئے ہوں گے۔میں خیال کرتا ہوں کہ میں تو گھوڑے پر سوار آیا اور یہ گھوڑے کے ساتھ پیدل چلتا آیا مگر اس محبت کی وجہ سے جو اسے میرے ساتھ ہے اس کو یہ خیال ہی نہیں آتا کہ یہ تو گھوڑے پر سوار تھے یہ کس طرح تھکتے ہوں گے۔وہ یہی سمجھتا ہے کہ گویا گھوڑے پر وہ سوار تھا اور پیدل میں چلتا آیا۔چنانچہ میرے اصرار کرنے کے باوجود کہ میں نہیں تھکا میں تو گھوڑے پر آ رہا ہوں۔وہ یہی کہتا چلا جاتا ہے کہ نہیں حضور تھک گئے ہوں گے۔مجھے خدمت کا موقع دیا جائے اور پاؤں دبانے لگ جاتا ہے۔ہمدردی خلق: 66 حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پر الفضل : 15 - مارچ 1938 ء صفحہ 4 ) میں دیانت داری سے کہہ سکتا ہوں کہ لوگوں کے لئے جو اخلاص اور محبت میرے دل میں میرے اس مقام پر ہونے کی وجہ سے ہے جس پر خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے اور جو ہمدردی اور رحم میں اپنے دل میں پاتا ہوں وہ 66 نہ باپ کو بیٹے سے ہے اور نہ بیٹے کو باپ سے ہو سکتا ہے۔“ (سوانح فضل عمر جلد 5 صفحه 111 ) " میں کسی کا بھی دشمن نہیں گو ساری دنیا میری دشمن ہے مگر مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔اس میں میرے لئے 249