مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 250 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 250

خدا تعالیٰ کے عفو اور غفران کی علامت ہے کیونکہ جو کسی کا دشمن نہ ہو پھر بھی اس سے دشمنی کی جائے تو خدا تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخشنے کیلئے تیار ہوتا ہے۔“ 66 سیرت حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی : (سوانح فضل عمر جلد 5 صفحه 111 ) حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی کا نام حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی پہلی بیوی حضرت محمودہ بیگم صاحبہ کے بطن مبارک سے 16 نومبر 1909ء کو پیدا ہوئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے سب سے بڑے بیٹے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ حافظ قرآن تھے۔1974 ء میں قومی اسمبلی میں جماعت کے خلاف ہونے والے فیصلے میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کی طرف سے دندان شکن جواب دیئے۔حضرت خلیفة أسبح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ 9 نومبر 1965ء کو جماعت احمدیہ کے تیسرے امام اور خلیفہ اسیح الثالث منتخب ہوئے۔26 مئی 1982 ء کو تھوڑی سی علالت کے بعد اسلام آباد پاکستان میں وفات پاگئے آپ بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔تعلق باللہ: حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے تعلق باللہ کے بارے میں فرماتے ہیں: میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ جب ایک موقع پر ظالمانہ طور پر ہمیں بھی قید میں بھیج دیا گیا۔گرمیوں کے دن تھے اور مجھے پہلی رات اس تنگ کوٹھڑی میں رکھا گیا جس میں ہوا کا کوئی گزر نہیں تھا اور اس قسم کی کوٹھڑیوں میں ان لوگوں کو رکھا جاتا ہے جنہیں اگلے دن پھانسی پر لٹکایا جانا ہو۔زمین پر سوتا تھا۔اوڑھنے کے لئے ایک بوسیدہ کمبل تھا اور سرہانے رکھنے کے لئے اپنی اچکن تھی۔بڑی تکلیف تھی۔میں نے اس وقت دعا کی کہ اے میرے رب! میں ظلم کر کے ، چوری کر کے، کسی کی کوئی چیز مار کر یا غصب کر کے یا کوئی اور گناہ کر کے اس کوٹھڑی میں نہیں پہنچا۔میں اس جگہ اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ جہاں تک میرا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ میں تیرے نام کو بلند کرنے والا تھا۔میں اس جماعت میں شامل تھا جو تو نے اس لئے قائم کی ہے کہ نبی اکرم صل اللہ کی محبت دلوں میں پیدا کی جائے۔میرے رب! مجھے یہاں آنے سے کوئی تکلیف نہیں، مجھے کوئی شکوہ نہیں، میں کوئی گلہ نہیں کرتا، میں خوش ہوں کہ تو نے مجھے قربانی کا ایک موقع دیا ہے اور میری اس تکلیف کی میری اپنی نگاہ میں بھی کوئی حقیقت اور قدر نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ میں اس جگہ جہاں ہوا کا گزر نہیں سو نہیں سکوں گا۔میں یہ دعا کر رہا تھا اور میری آنکھیں بند تھیں۔میں بلا مبالغہ آپ کو بتاتا ہوں کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے نزدیک ایک ایئر کنڈیشنر (Air Conditionar) لگا ہوا ہے اور اس سے ایک نہایت ٹھنڈی ہوا نکل کر پڑنی شروع ہوئی اور میں سو گیا۔غرض ہر دکھ کے وقت، ہر مصیبت کے وقت میں جب منصوبے بنائے گئے ان اوقات میں اللہ تعالیٰ کا پیار آسمان سے آیا اور اس نے ہمیں اپنے احاطہ میں لے لیا اور ہمیں تکلیفوں اور دکھوں سے بچایا اور اسی لذت اور سرور کے سامان پیدا کئے کہ دنیا اس سے ناواقف ہی نہیں 250