مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 248
حامل ہے۔یہ قرآن جیسے پہلے لوگوں کے لئے کھلا تھا اسی طرح آج ہمارے لئے کھلا آج جبکہ دنیا کے علوم میں ترقی ہو رہی ہے یہ پھر بھی کھلا ہے بلکہ جس طرح دنیوی علوم میں آج کل زیادتی رہی ہے اسی طرح قرآنی معارف بھی آج کل نئے سے نئے نکل رہے ہیں۔ہمیشہ ہی جو حضرت (بانی ہو پروا سلسلہ احمدیہ) نے تقسیم کئے اور یہی وہ خزائن ہیں جو آج ہم تقسیم کر رہے ہیں۔دنیا اگر حملہ کرتی ہے تو میں، وہ دشمنی کرتی ہے تو سو بار کرے، وہ عداوت و عناد کا مظاہرہ کرتی ہے تو لاکھ بار کرے۔ہم انہیں کہتے ہیں کہ تم بے شک ہمارے سینوں میں خنجر مارے جاؤ۔اگر ہم مرگئے تو یہ کہتے ہوئے مریں گے کہ ہم محمد رسول کا جھنڈا بلند کرتے ہوئے مارے گئے اور اگر جیت گئے تو یہ کہتے ہوئے جیتیں گے کہ ہم نے محمد علاقہ کا جھنڈا دنیا میں بلند کر دیا۔“ الله صلى الله (سیر روحانی صفحه 95 ) قرآن مجید سے گہری وابستگی اور قلبی لگاؤ اور قرآنی عظمت و شان بیان کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے تو آج تک نہ کوئی ایسی کتاب دیکھی اور نہ مجھے کوئی ایسا آدمی ملا جس نے مجھے کوئی ایسی بات بتائی جو قرآن کریم کی تعلیم سے بڑھ کر ہو یا قرآن کریم کی کسی غلطی کو ظاہر کر رہی ہو یا کم از کم قرآن کریم کی تعلیم کے برابر ہی ہو۔محمد صل اللہ جس کے سامنے تمام علوم بیچ ہیں۔چودھویں صدی علمی ترقی کے لحاظ سے ایک ممتاز صدی ہے۔اس میں بڑے بڑے علوم نکلے۔بڑی بڑی ایجادیں ہوئیں اور بڑے بڑے سائنس کے عقدے حل ہوئے مگر یہ تمام علوم محمد ملاقہ کے علم کی گرد کو بھی نہیں پہنچ وو سکے 66 احباب جماعت سے تعلق: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ احباب جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: الفضل 30 جون 1939 ء) ” میں دیانت داری سے کہہ سکتا ہوں کہ لوگوں کے لئے جو اخلاص اور محبت میرے دل میں میرے اس مقام پر ہونے کی وجہ سے جس پر خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے، ہے اور جو ہمدردی اور رحم میں اپنے دل میں پاتا ہوں وہ نہ باپ کو بیٹے سے ہے اور نہ بیٹے کو باپ سے ہو سکتا ہے۔پھر میں اپنے دل کی محبت پر انبیاء کی محبت کو قیاس کرتا ہوں جیسے ہم جگنو کی چمک پر سورج کو قیاس کر سکتے ہیں تو میں ان کی محبت اور اخلاص کو حد سے بڑھا ہوا پاتا ہوں۔66 حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الفضل 4 اپریل 1924 ، صفحہ 7 " کیا تم میں اور ان میں جنہوں نے خلافت سے روگردانی کی ہے کوئی فرق ہے۔کوئی بھی فرق نہیں۔لیکن نہیں ایک بہت بڑا فرق بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ تمہارے لئے ایک شخص تمہارا درد رکھنے والا ، تمہاری محبت رکھنے والا، تمہارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا، تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف جاننے والا ، تمہارے لئے خدا کے حضور دعائیں کرنے والا ہے۔248